حیاتِ بقاپوری — Page 121
حیات بقاپوری 121 لانبی بعدی کا بھی سمجھ لو۔کیونکہ دوسری جگہ نبی کریم صلعم نے مسیح موعود کو نبی اللہ فرمایا ہے۔تو جس طرح لا صلوة کی نفی عام میں من ادرك ركعة اور خیر صلوۃ لمرء سے کوئی خلل واقعہ نہیں ہوتا، اسی طرح لا نبی بعدی کی نفی عام میں عیسی نبی اللہ کا آنا خلل انداز نہیں ہوتا۔ایسا ہی صحیح حدیثوں میں آیا ہے کہ من كان له امام فقراءة الامام له قراءة یعنی امام کا قرآن پڑھنا مقتدی کے لئے کافی ہے۔دوسری روایت میں ہے واذا قرئ القرآن فاستمعوا له وانصتوا۔یعنی جب امام قرآن پڑھے خاموش ہو جاؤ۔اور ایک روایت میں یوں آیا ہے، کہ ایک شخص رسول اللہ صلم کے پیچھے قرآن پڑھتا تھا۔بعد نماز آپ نے اُس کو منع فرمایا۔اب اگر کوئی شخص ان حدیثوں کو استدلالاً پیش کرے اور موجودہ حنفیوں کی طرح فاتحہ خلف الامام حرام ہونے کا فتویٰ دے دے۔تو یہ حرکت اس کی سراسر جہالت اور غلطی پرمبنی ہوگی۔کیونکہ اگر رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث میں امام کے پیچھے قرآن شریف پڑھنے سے منع فرمایا ہے، تو دوسری جگہ لا تفعلوا بشئ الا بفاتحة الكتاب فرما کر فا تحہ پڑھنے کی خصوصیت کر دی۔یہی حال لا نبی بعدی اور عیسیٰ نبی اللہ کا ہے۔نیز آپ غور فرما دیں کہ ایک شخص اگر یہ اعتقادر کھے کہ قرآن شریف میں جو آیا ہے وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومه (۵:۱۴)۔یعنی ہر ایک رسول اپنی قوم کی زبان میں ہی بھیجا گیا ہے۔چونکہ من رسول نکرہ خیز نفی میں واقع ہونے سے فائدہ عمومیت کا دیتا ہے۔اس واسطے محمد رسول اللہ مسلم بھی عربوں کی طرف ہی معبوث فرمائے گئے ہیں۔دوسرے ممالک کی قومیں انکی رسالت میں شامل نہیں۔چنانچہ ایک فرقہ عیسائیوں کا ایسا بھی ہے جس کا یقین ہے کہ محمد رسول اللہ صلم کی نبوت صرف عرب کے لئے ہی مخصوص تھی۔تو اُس شخص کا یہ استدلال بالکل غلط ہو گا۔کیونکہ جس احکم الحاکمین نے یہ اصول بیان فرمایا کہ تمام رسول صرف اپنی اپنی قوموں کی زبان میں ہی آئے ہیں اُسی نے دوسری جگہ محمد رسول اللہ صلعم کے حق میں وما ارسلنک الا كافة للناس ( ۲۹:۳۴) فرما کر اس اصول عامہ سے باہر رکھ لیا۔جس سے یہ سمجھا گیا کہ سوائے محمد رسول اللہ صلعم کے تمام انبیاء علیہم السلام مختص القوم و الزمان تھے۔ایسا ہی جب نبی کریم صلعم نے لا نبی بعدی فرما کر عام نفی کی ہے تو دوسری جگہ عیسی نبی اللہ کا ارشاد فرما کر بتلایا دیا کہ یہ قاعدہ باستثناء مسیح موعود کے دوسرے مجد دین واولیاء امت کے لئے ہے۔نیز اگر ایک شخص لتنذر قوماً ما انذر اباء هم (۷:۳۶) سے یہ استدلال کرلے کہ محمد رسول اللہ صلعم کا انذار حقیقی صرف خطہ عرب کے لئے ہی تھا، دوسرے ممالک مجازاً آپ کی تبلیغ میں شامل ہیں۔اور لانذرکم به و من بلغ (۲۰۰۶) سے آنکھیں بند کرلے تو یہ اس کی جہالت ہوگی۔اس طرح کی مثالیں قرآن و حدیث میں بہت سی ہیں۔کہ ایک حکم عام دیا گیا ہے۔اور ایک آدھ فرد کو کسی خصوصیت سے باہر رکھ لیا ہے۔بعض وقت اس کا دوسری جگہ تذکرہ کر دیا ہے۔جس سے اُس کی خصوصیت سمجھی جاوے۔مگر اس سے اصل حکم