حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 87 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 87

حیات احمد ۸۷ جلد پنجم حصہ دوم ایک تاریخی دن (۱۸/ نومبر ۱۹۰۱ء) اللہ تعالیٰ کے ایام تو ہر رنگ میں ایک خاص شان رکھتے ہیں اور ایام اللہ، اللہ تعالیٰ کے ماموروں کی زندگی میں ایک یوم صداقت ہوتے ہیں جن میں ان کی تائید کے نشانِ نصرت نمایاں ہوتے ہیں۔۱۸/ نومبر ۱۹۰۱ء بھی سلسلہ احمدیہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک یادگاری دن ہے اس روز ایک عظیم الشان پیشگوئی کا ظہور ہوا اور ہندوستان سے باہر مصر کے ایک نکتہ چین کو دعوت مقابلہ دی گئی ان دونوں کا ذکر میں جدا جدا کروں گا۔(۱) يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کا ایک نشان حضرت اقدس کو اوائل ہی میں جب کہ کوئی آپ کو دنیا میں نہ جانتا تھا اور ایک گوشہ میں آپ مصروف عبادت اور براہین احمدیہ کی تالیف و اشاعت کے لئے مصروف دعا تھے اور قادیان کو بھی کوئی شہرت حاصل نہ تھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بشارت دی تھی کہ دور دراز راستوں سے تیرے پاس لوگ آئیں گئے“۔مسٹرڈکسن یورپین سیاح کی آمد پھر کچھ عرصہ بعد اس پیشگوئی کا ظہور شروع ہوا۔مگر ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ دور دراز راستوں سے لوگ آئیں۔ہر مہمان جو نزدیک یا دور سے آتا وہ اس پیشگوئی کا مصداق ہوتا اور اس کی ایک شان تجلی کا مظہر ہوتا۔۷ ارنومبر ۱۹۰۱ ء کو جب حضرت اقدس سیر سے واپس آ کر تذ کا رسیر کی تکمیل کے سلسلہ میں تشریف فرما ہو گئے اور آپ کا سلسلہ کلام جاری تھا کہ ایک یوروپین سیاح مجلس میں آ گیا۔راقم الحروف نے اپنے اخبار الحکم میں جو ۲۴ نومبر ۱۹۰۱ء کے صفحہ ۲ پر شروع ہوتا ہے اسے قلم بند کیا ہے۔قارئین کرام اس تقریر میں حضرت اقدس کی شان سادگی اور تبلیغی جوش کا اندازہ کر