حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 80
حیات احمد ۸۰ جلد پنجم حصہ دوم کامل راست باز تھا اس لئے لاکھوں کی جانوں کا وہ شفیع ہو گیا۔یہی وجہ ہے کہ ملکہ جب تک آنحضرت علﷺ اس میں تشریف رکھتے رہے امن کی جگہ رہا اور پھر جب مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کا اس وقت نام یثرب تھا۔جس کے معنے ہیں ہلاک کرنے والا یعنی ہمیشہ اس میں سخت و با پڑا کرتی تھی۔آپ نے داخل ہوتے ہی فرمایا کہ اب اس کے بعد اس شہر کا نام میثرب نہ ہو گا بلکہ اس کا نام مدینہ ہو گا یعنی تمدن اور آبادی کی جگہ اور فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ مدینہ کی وبا اس میں سے ہمیشہ کے لئے نکال دی گئی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب تک مکہ اور مدینہ ہمیشہ طاعون سے پاک رہے ہیں۔اُس خدائے کریم کا شکر کرتا ہوں کہ اسی آیت کے مطابق اس نے مجھے بھی الہام کیا اور وہ یہ ہے۔اَلَا مُرَاضُ تُشَاءُ وَالنُّفُوسُ تُضَاعُ۔إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ - يہ الہام اشتہار ۶ فروری ۱۸۹۸ء میں شائع ہو چکا ہے۔اور یہ طاعون کے بارے میں ہے اس کا خلاصہ مطلب یہ ہے کہ موتوں کے دن آنے والے ہیں مگر نیکی اور تو بہ کرنے سے ٹل سکتے ہیں اور خدا نے اس گاؤں کو اپنی پناہ میں لیا ہے اور متفرق کئے جانے سے محفوظ رکھا یعنی بشرط تو بہ۔اور براہین احمدیہ میں یہ الہام بھی درج ہے کہ۔مَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فِيْهِمْ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے برکتیں ہیں اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔اور یادر ہے کہ یہ ہماری تحریر محض نیک نیتی اور سچی ہمدردی کی راہ سے ہے۔وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَلَاغ وَ السَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى مشتهـ خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۱۷ مارچ ۱۹۰۱ء مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۵۰۰ تا ۵۰۲ طبع بار دوم ) الانفال: ۳۴