حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 79
حیات احمد ۷۹ جلد پنجم حصہ دوم ہے۔کوئی نہیں بیان کر سکتا کہ یہ کب تک رہے گی اور اپنے رخصت کے دنوں تک کیا کچھ انقلاب پیدا کرے گی اور کوئی کسی کی زندگی کا ذمہ دار نہیں۔سواپنے نفسوں اور اپنے بچوں اور اپنی بیویوں پر رحم کرو۔چاہیے کہ تمہارے گھر خدا کی یاد اور تو بہ اور استغفار سے بھر جائیں اور تمہارے دل نرم ہو جائیں۔بالخصوص میں اپنی جماعت کو نصیحتا کہتا ہوں کہ یہی وقت تو بہ اور استغفار کا ہے جب بلا نازل ہوگئی تو پھر تو بہ سے بھی فائدہ کم پہنچتا ہے۔اب اس سخت سیلاب پر سچی توبہ سے بند لگاؤ۔باہمی ہمدردی اختیار کرو۔ایک دوسرے کو تکبر اور کینہ سے نہ دیکھو۔خدا کے حقوق ادا کرو اور مخلوق کے بھی ، تا تم دوسروں کے بھی شفیع ہو جاؤ۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ایک شہر میں جس میں مثلاً دس لاکھ کی آبادی ہو ایک بھی کامل راست باز ہو گا تب بھی یہ بلا اس شہر سے دفع کی جائے گی پس اگر تم دیکھو کہ یہ بلا ایک شہر کو کھاتی جاتی اور تباہ کرتی جاتی ہے تو یقیناً سمجھو کہ اس شہر میں ایک بھی کامل راستباز نہیں۔معمولی درجہ کی طاعون یا کسی اور وبا کا آنا ایک معمولی بات ہے لیکن جب یہ بلا ایک کھا جانے والی آگ کی طرح کسی شہر میں اپنا منہ کھولے تو یقین کرو کہ وہ شہر کامل راستبازوں کے وجود سے خالی ہے تب اس شہر سے جلد نکلو یا کامل تو بہ اختیا ر کرو۔ایسے شہر سے نکلنا جس طرح طبی قواعد کی رو سے مفید ہے ایسا ہی روحانی قواعد کی رو سے بھی۔مگر جس میں گناہ کا زہریلہ مادہ ہو وہ بہر حال خطر ناک حالت میں ہے۔پاک صحبت میں رہو کہ پاک صحبت اور پاکوں کی دعا اس زہر کا علاج ہے۔دنیا ارضی اسباب کی طرف متوجہ ہے مگر جڑ اس مرض کی گناہ کا زہر ہے اور تریاقی وجود کی ہمسائیگی فائدہ بخش ہے۔اللہ جَلّ شَانُهُ اپنے رسول کو قرآن شریف میں فرماتا ہے مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِم لے یعنی خدا ایسا نہیں ہے کہ وہا وغیرہ سے ان لوگوں کو ہلاک کرے جن کے شہر میں تو رہتا ہو۔پس چونکہ وہ نبی علیہ السلام الانفال: ۳۴