حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 78
حیات احمد ۷۸ جلد پنجم حصہ دوم کشتی بنارہا ہے لیکن آخر طوفان آیا اور سب کو بجز کشتی والوں کے تباہ کر دیا۔یہاں اللہ تعالیٰ نے پہلے آپ کو نوح کہا اور کشتی بنانے کا حکم دیا اور اس عذاب کو طوفانِ طاعون کی شکل میں نمودار کر دیا۔جب اس طوفان کے آثار شروع ہوئے تو آپ نے پھر خلق اللہ کو آگاہ فرمایا۔چنانچہ آپ نے ۷ ار مارچ ۱۹۰۱ء کو مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا۔طاعون بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم ناظرین کو یاد ہوگا کہ ۶ / فروری ۱۸۹۸ء کو میں نے طاعون کے بارے میں ایک پیشگوئی شائع کی تھی اور اس میں لکھا کہ مجھے یہ دکھلایا گیا ہے کہ اس ملک کے مختلف مقاموں میں سیاہ رنگ کے پودے لگائے گئے ہیں اور وہ طاعون کے پودے ہیں اور میں نے اطلاع دی تھی کہ تو بہ اور استغفار سے وہ پودے دور ہو سکتے ہیں۔مگر بجائے تو بہ اور استغفار کے وہ اشتہار بڑی ہنسی اور ٹھٹھے سے پڑھا گیا اب میں دیکھتا ہوں کہ وہ پیشگوئی ان دنوں میں پوری ہو رہی ہے۔خدا ملک کو اس آفت سے بچاوے اگر خدا نخواستہ اس کی ترقی ہوئی تو وہ ایک ایسی بلا ہے جس کے تصور سے بدن کانپتا ہے۔سواے عزیز و! اسی غرض سے پھر یہ اشتہار شائع کرتا ہوں کہ سنبھل جاؤ اور خدا سے ڈرو اور ایک پاک تبدیلی دکھلاؤ تا خدا تم پر رحم کرے اور وہ بلا جو بہت نزدیک آ گئی ہے خدا اس کو نابودکرے۔اے غافلو! یہ نسی اور ٹھٹھے کا وقت نہیں ہے۔یہ وہ بلا ہے جو آسمان سے آتی اور صرف آسمان کے خدا کے حکم سے دور ہوتی ہے اگر چہ ہماری گورنمنٹ عالیہ بہت کوشش کر رہی ہے اور مناسب تدبیروں سے یہ کوشش ہے مگر صرف زمینی کوششیں کافی نہیں۔ایک پاک ہستی موجود ہے جس کا نام خدا ہے یہ بلا اسی کے ارادے سے ملک میں پھیلی