حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 77 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 77

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم طاعون کے متعلق پیشگوئی پوری ہوئی الہی سلسلوں کے متعلق یہ استواری سنت اللہ ہے کہ وہ ہر قسم کے ابتلاؤں اور مخالفتوں میں نشو و نما پاتے ہیں اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ تا دنیا پر ثابت ہو کہ یہ آسمانی سلسلہ ہے اور خدا تعالیٰ کی تائید اور نصرت اس کے ساتھ ہے اور باوجود ہر قسم کی مخالفت اور ایذا رسانی کے یہ بڑھتا اور پھولتا ہے۔خود حضرت سید الاولین والآخرین خاتم النبیین رسول رب العالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی مگی زندگی کا تیرہ سال کا لمبا زمانہ ابتلاؤں میں گزرا لیکن آخر وہ وقت آ گیا کہ آپ کے سامنے آپ کے مخالفین کی مخالفت ختم ہو گئی اور جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًال کا شاندار مظاہرہ ہوا۔حضرت اقدس اُس سَيِّدُ الأَنَامِ وَإِمَامُ الْمُتَّقِين وَ مُرْسَلین کے ایک خادم تھے اور آپ کی صداقت کا مظہر۔پس آپ کے ساتھ بھی وہی ہوا۔ماموریت کے پہلے اعلان سے مخالفت کا سلسلہ شروع ہوا جیسے مخالفت بڑھتی گئی جماعت میں روز افزوں ترقی ہوتی گئی۔۱۹۰۱ء کا سال ہی مخالفت کے طوفان میں شروع ہوا اور ہر رنگ میں جماعت کی تطہیر اور آپ کے ساتھ نصرت الہی کی تجلی کا مظاہرہ ہوتا گیا۔اس سال کے کارناموں اور مخالفانہ ہنگاموں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کیا یہ آسمانی تائید کے بغیر ممکن ہوسکتا ہے؟ آسمانی تائیدات ہر رنگ میں نازل ہو رہی تھیں چنانچہ طاعون کے ذریعہ اس پیشگوئی کا ظہور ہوا جس کی خبر آپ نے ۲۶ فروری ۱۸۹۸ء کے اشتہار میں دی تھی اس وقت لوگوں نے ہنسی اور ٹھٹھا کیا اور مذاق اڑایا کہ آپ طاعون کو پورے پنجاب میں لگتے دیکھ رہے ہیں اسی طرح پر جیسے حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں دردناک عذاب طوفان کا آپ نے اعلان کیا تھا۔تو ظاہر پرست معترضین نے ہنسی اڑائی کہ آسمان پر بارش کا نشان نہیں اور یہ بوڑھا ( علیہ الصلوۃ والسلام ) خشکی میں بنی اسرائیل: ۹۹