حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 72
حیات احمد ۷۲ جلد پنجم حصہ دوم قیصری درباروں میں کرسی نشین تھے ان کو کر یہ اور نہایت دل آزار اور خلاف تہذیب لفظوں سے یاد کرنا کہ تم حرامزادے ہو، حرامکار ہو، شریر ہو اور بدذات ہو، بے ایمان ہو احمق ہو، ریا کار ہو، شیطان ہو، جہنمی ہو، تم سانپ ہو،سانپوں کے بچے ہو ، کیا یہ سب الفاظ معترض کی رائے کے موافق فاش اور گندی گالیاں نہیں ہیں؟ اس سے ظاہر ہے کہ معترض کا اعتراض نہ صرف مجھ پر اور میری کتابوں پر بلکہ درحقیقت معترض نے خدائے تعالیٰ کی ساری کتابوں اور سارے رسولوں پر نہایت درجہ کے جلے سڑے دل کے ساتھ حملہ کیا ہے اور یہ حملہ انجیل پر سب سے زیادہ ہے کیونکہ حضرت مسیح کی سخت زبانی تمام نبیوں سے بڑھی ہوئی ہے اور انجیل سے ثابت ہے کہ اس سخت کلامی کی وجہ سے کئی مرتبہ یہودیوں نے حضرت مسیح کے مارنے کے لئے پتھر اٹھائے اور سردار کا ہن کی بے ادبی سے حضرت مسیح نے اپنے منہ پر طمانچے بھی کھائے اور جیسا کہ حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ میں صلح کرانے نہیں آیا بلکہ تلوار چلانے آیا ہوں سو انہوں نے زبان کی تلوار ایسی چلائی کہ کسی نبی کے کلام میں ایسے سخت اور آزاردہ الفاظ نہیں جیسے انجیل میں ہیں۔اس زبان کی تلوار چلنے سے آخر مسیح کو کیا کچھ آزارا ٹھانے پڑے ایسا ہی حضرت بیٹی نے بھی یہودیوں کے فقیہوں اور بزرگوں کو سانپوں کے بچے کہہ کر ان کی شرارتوں اور کارسازیوں سے اپنا سر کٹوایا مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ مقدس لوگ پرلے درجہ کے غیر مہذب تھے، کیا زمانہ حال کی موجودہ تہذیب کی ان کو یو بھی نہیں پہنچی تھی ؟ اس سوال کا جواب ہمارے سید و مولیٰ مادر و پدرم بر أوفد ابا دحضرت ختم المرسلین سید الاولین والآخرین پہلے سے دے چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں پلید ہیں اور شر البریہ ہیں سفہاء ہیں اور ذریت شیطان ہیں اور ان کے معبود وَقُودُ النَّار اور حَصَبُ جَهَنَّم ہیں تو ابو طالب نے آنحضرت ﷺ کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے! اب تیری دُشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور