حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 69 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 69

حیات احمد ۶۹ جلد پنجم حصہ دوم دعوت صلح اور مکفرین جس درد دل سے حضرت نے باوجود مظلوم ہونے کے مکفرین کی جماعت کو دعوتِ صلح دی تھی چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے جواب میں ائمة الــــفـــر کی طرف سے بڑی فراخدلی اور محبت واخلاص کے ساتھ اس پر لبیک کہا جاتا اور صلح کے لئے ہاتھ گرم جوشی سے بڑھاتے مگر یہ پیام صلح بھی حق و باطل میں امتیاز کا ایک ذریعہ بن گیا علماء مکفرین نے اس پیامِ دوستی کو حضرت اقدس کی شکست قرار دیا اور بجائے بھول جاؤ کے اصل پر عمل کرنے کے بعض نے اپنی فتح کے نقارے بجانے شروع کئے اور بعض نے اعتراض کا دوسرا پہلو اختیار کیا کہ آج مرزا صاحب صلح کی دعوت دیتے ہیں اور ان کی تحریریں علماء کی گالیوں سے بھری ہوئی ہیں۔اس موقع پر یہ کہا جا سکتا تھا کہ فریقین ایک دوسرے کے خلاف آئندہ کچھ نہ لکھیں بلکہ حضرت اقدس نے تو خود اس اعلان میں اسی اصل کو پیش کیا اور نہ صرف اپنے آپ کو پابند کرنے کا وعدہ کیا بلکہ اپنی جماعت کے علماء اور صاحب قلم مریدوں کو بھی پابند کر دینے کا وعدہ کر دیا مگر مکذبین نے صراط مستقیم اور قرآن کریم کے اسی اصول امن کو تسلیم کرنے سے مختلف عذرات کی بنا پر انکار کر دیا۔اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ ان کے بازار کی رونق زبان درازی سے ہے جس کے ذریعہ نا جائز حملے اور جھوٹے الزامات واتہامات اور گالیاں دی جاسکتی ہیں حالانکہ وہ خود جانتے تھے کہ آپ کی طرف سے کبھی حملہ نہیں کیا گیا بلکہ آپ کا عمل تو یہ تھا۔گالیاں سُن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے اور جماعت کو ہدایت تھی کہ گالیاں سُن کر دعا دو پا کے دکھ آرام رو مگر یہ تو طریق سعادت ہے حق کو لینا ہو تب ایسا ہو سکتا ہے بہر حال علما ء ربانی کی جوشان ہے اس کے آثار نمایاں ہوئے اور معترضین نے اعتراضات کا سلسلہ شروع کر دیا۔