حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 70 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 70

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم یہ بھی نشان صداقت تھا اور اس طرح پر یہ اعلان دعوت صلح بھی آپ اور حضرت نبی کریم ﷺ ایک نشان ثابت ہوا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علماء کی حالت کا نقشہ اس طرح پر فرمایا تھا کہ عُلَمَاءُ هُمُ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أدِيمِ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَفِيهِمُ تَعُودُ (مشكوة المصابيح ، كتاب العلم، الفصل الثالث بحواله شعب الایمان للبيهقى ( یعنی ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے ان سے ہی فتنہ اٹھے گا اور انہی کی طرف لوٹے گا۔حضرت رسول کریم ﷺ کے اس ارشاد عالی اور فتوے کے بعد کسی اور کو کچھ کہنے کی کیا ضرورت ہے اور ان کے اعمال اور کارناموں نے اس کی صداقت پر مہر کر دی ہے۔غرض کوئی گالی اور دسیسہ کاری باقی نہ رہی جوان مکفرین نے نہ کی ہو۔پس حضرت پر یہ الزام کہ انہوں نے ابتدا کی یا گالیاں دیں سراسر بے بنیاد ہے۔اس قسم کا اعتراض آپ کے اعلان دعوی مسیح موعود کے ساتھ ہی شروع ہوا اور آپ نے ازالہ اوہام میں اس کا جواب دیا۔وو پہلی نکتہ چینی اس عاجز کی نسبت یہ کی گئی ہے کہ اپنی تالیفات میں مخالفین کی نسبت سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جن سے مشتعل ہو کر مخالفین نے اللہ جَلَّ شَانُهُ اور اس کے رسول کریم کی بے ادبی کی اور پر دشنام تالیفات شائع کر دیں۔قرآن شریف میں صریح حکم وارد ہے کہ مخالفین کے معبودوں کو سب اور شتم سے یا دمت کرو تا وہ بھی بے سمجھی اور کینہ سے خدائے تعالیٰ کی نسبت سب وشتم کے ساتھ زبان نہ کھولیں لیکن اس جگہ بر خلاف طریق ماموریہ کے سب وشتم سے کام لیا گیا۔اما الجواب پس واضح ہو کہ اس نکتہ چینی میں معترض صاحب نے وہ الفاظ بیان نہیں فرمائے جو اس عاجز نے بزعم ان کے اپنی تالیفات میں استعمال کئے ہیں اور در حقیقت سب وشتم میں داخل ہیں۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے میں نے ایک لفظ بھی ایسا استعمال نہیں کیا جس کو دشنام دہی کہا جائے۔بڑے دھو کہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دُشنام دہی اور بیان واقعہ