حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 66
حیات احمد ۶۶ جلد پنجم حصہ دوم رسالہ کے مضامین نے زلزلہ پیدا کر دیا اس رسالہ کے ان مضامین نے جو عیسویت کی باطل پرستی پر حملہ کیا اس کا جواب تو نہ ہوسکا مگر ایوان یسوی میں ایک زلزلہ پیدا کر دیا۔انگلستان کے چرچ فیملی اخبار نے لکھا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے پیدا کردہ لٹریچر کا جواب نہ دیا جاوے ورنہ وہ عیسویت کے خلاف ایسا حربہ لٹریچر کی شکل میں پیدا کر دے گا کہ بائبل کا صفایا ہو جائے گا۔(مفہوم) یہ سلسلہ بہت وسیع ہے۔چونکہ ریویو کے متعلق آگے بھی تذکرہ آئے گا۔وہ اس کی مقبولیت کی ایک بین شہادت ہے جبکہ مولوی انشاء اللہ صاحب مرحوم ایڈیٹر وطن نے ریویو کی اشاعت کے لئے ایک مشروط معاہدہ کرنا چاہا۔مکرم مولوی محمد علی صاحب اور مکرم خواجہ صاحب قریباً اس معاہدے پر پابند ہورہے تھے کہ اس کا بھانڈا خاکسار عرفانی نے الحکم کے ذریعہ پھوڑ دیا اور حضرت اقدس نے بھی اسے پسند نہ فرمایا۔اس کا ذکر بعد میں آئے گا۔یہ ریویو کا دوسرا دور تھا اس لئے جدا گانہ بحث کروں گا۔مکفرین علماء پر الصلح کے ذریعہ اتمام حجت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی اس امر کی کھلی شہادت ہے کہ آپ نے جنگ و جدال سے کنارہ کشی کی مگر مخالفین نے ہمیشہ آپ کو کسی نہ کسی بہانے سے حرب عقائد میں کھینچا اور بالآخر ذلت کے ساتھ پسپا ہوئے اندرونی اور بیرونی ہر قسم کے مخالفین کے سامنے امن پسندی کے ساتھ متنازعہ مسائل کا فیصلہ چاہا مگر وہ اس راستہ پر نہ آئے بالآخر پھر آپ نے ایک بار اور صلح کی تجویز الصُّلْحُ خَیرٌ کے اعلان سے پیش کی اور یہ ضروری تھا کہ آپ کا نام وحی الہی میں سلمان بھی ہے۔اور ایک عجیب بات یہ ہے کہ آپ عظیم الشان مصروفیت اور بیماری کے حملوں اور جماعت کی تربیت کے امور مہمہ کے ہوتے ہوئے ہر رنگ میں دشمنوں کو راہ صدق وصواب کی طرف بلاتے ہیں اور اندرونی فتنہ چونکہ خطر ناک تھا اور علماء مکفرین مختلف طریقوں سے اشاعت حق میں روک تھے