حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 67 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 67

حیات احمد ۶۷ جلد پنجم حصہ دوم مقابلہ میں آتے تو نہ تھے اور فتنہ پردازیوں سے باز نہیں رہتے تھے اس لئے آپ نے اتمام حجت کے لئے ۵ مارچ ۱۹۰۱ء کو نئے انداز سے پیغام صلح دیا چنانچہ فرمایا۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ الصُّلْحُ خَيْرٌ اے علماء قوم جو میرے مکذب اور مکفر ہیں یا میری نسبت متذبذب ہیں آج پھر میرے دل میں خیال آیا کہ میں ایک مرتبہ پھر آپ صاحبوں کی خدمت میں مصالحت کے لئے درخواست کروں مصالحت سے میری یہ مراد نہیں ہے کہ میں آپ صاحبوں کو اپنا ہم عقیدہ بنانے کے لئے مجبور کروں یا اپنے عقیدہ کی نسبت اس بصیرت کے مخالف کوئی کمی بیشی کروں جو خدا نے مجھے عطا فرمائی ہے بلکہ اس جگہ مصالحت سے صرف یہ مراد ہے کہ فریقین ایک پختہ عہد کریں کہ وہ اور تمام وہ لوگ جو ان کے زیر اثر ہیں ہر ایک قسم کی سخت زبانی سے باز رہیں۔اور کسی تحریر یا تقریر یا اشارہ کنایہ سے فریق مخالف کی عزت پر حملہ نہ کریں اور اگر دونوں فریق میں سے کوئی صاحب اپنے فریق مخالف کی مجلس میں جائیں تو جیسا کہ شرط تہذیب اور شائستگی ہے۔فریق ثانی مدارات سے پیش آئیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ انجام کا رانہی اصولوں یا مدارات کی طرف لوگ آجاتے ہیں۔جب دیکھتے ہیں کہ ایک فریق دنیا میں بکثرت پھیل گیا ہے جیسا کہ آج کل حنفی۔شافعی۔مالکی حنبلی با وجودان سخت اختلافات کے جن کی وجہ سے مکہ معظمہ کی ارض مقدسہ بھی ان کو ایک مصلے پر جمع نہیں کر سکی ایک دوسرے سے مخالطت اور ملاقات رکھتے ہیں۔لیکن بڑی خوبی کی یہ بات ہے کہ کسی اندرونی فرقہ کی ابتدائی حالت میں ہی اس سے اخلاقی برتاؤ کیا جائے۔خدا جس کو نیست و نابود کرنا چاہتا ہے وہی نا بود ہوتا ہے، انسانی کوششیں کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔اگر یہ کاروبا رخدا کی طرف سے نہیں ہے تو خود یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا۔اور اگر خدا کی طرف سے ہے تو کوئی دشمن اس کو تباہ نہیں کر سکتا اس لئے محض قلیل سخت زبانی میں یہ بات داخل ہوگی کہ ایک فریق دوسرے فریق کو ان الفاظ سے یاد کرے کہ وہ دجال ہے یا بے ایمان ہے یا فاسق ہے مگر یہ کہنا کہ اس کے بیان میں غلطی ہے یا وہ خاطی یا خطی ہے سخت زبانی میں داخل نہیں ہوگا۔منہ