حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 64
حیات احمد ۶۴ جلد پنجم حصہ دوم رو پیه تک فنانشل سیکرٹری صاحب کے پاس جمع رہے گا۔امین سے کوئی روپیہ سوائے سیکرٹری اور فنانشل سیکرٹری صاحب کے دستخطوں کے برآمد نہ ہوگا۔فنانشل سیکرٹری سے کوئی روپیہ سوائے سیکرٹری اور محاسب کے دستخطوں کے برآمد نہ ہو گا۔(۳) ڈائریکٹروں کی تعداد بجائے سات کے پانچ قرار دی گئی (۴) مرزا خدا بخش صاحب و شیخ یعقوب علی صاحب کو ڈائریکٹر قرار دیا گیا اور اس طرح بیس کی تعداد پوری ہوگئی (۵) فیصلہ کیا گیا کہ جنوری ۱۹۰۲ء سے آگے اشاعت میگزین میں تا خیر نہ پڑے (۶) فیصلہ کیا گیا کہ اگر تین سو درخواست اردو میگزین کے لئے پہنچ جاوے تو اردو میگزین شائع کیا جاوے۔لہذا ممبران انجمن کو لازم ہے کہ ہر ایک قسم کا روپیہ متعلق حصص یا قیمت میگزین کی بنام حضرت مولوی نورالدین صاحب قادیان میں روانہ فرماویں اور خط وکتابت اور اطلاع روپے بھیجنے کی اور وہ کس قسم کا روپیہ ہے خاکسار راقم کے نام ہونی چاہیے۔دستخط پریذیڈنٹ راقم خاکسار محمد علی از قادیان اس اعلان کے بعد ۲۵ جنوری ۱۹۰۲ء انگریزی ایڈیشن اور مارچ ۱۹۰۲ء سے اردو میگزین کی اشاعت عمل میں آئی اور مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے انگریزی میگزین لندن سے بھی شائع ہوا اور اب ربوہ ضلع جھنگ مغربی پنجاب پاکستان مغربی سے شائع ہوتا ہے اور اردو میگزین اپنی زندگی ختم کر چکا ہے۔جو افسوسناک امر ہے۔ریویو کا اثر اور دائرہ اشاعت انگریزی رسالہ کا پہلا نمبر شائع ہوا تو اس کی دھوم مچ گئی اور مذہبی دنیا میں ایک زلزلہ پیدا ہوا۔اس رسالہ کے اصل مضامین تو خود حضرت اقدس تحریر کرتے اور حضرت مولوی محمد علی صاحب مغفور و مرحوم ان کا انگریزی میں ترجمہ کرتے حضرت مسیح موعود کی دعائیں اور توجہ اُن کی مددگار و معین تھیں۔اللہ تعالیٰ نے اُن کے کلام میں قوت اور تاثیر پیدا کر دی رسالہ صرف اور صرف اظہارالدین کے لئے تھا کوئی