حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 58 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 58

حیات احمد ۵۸ جلد پنجم حصہ دوم دی جاتی ہے اور چندے مانگے جاتے ہیں۔اس وقت ہمارے دو بڑے ضروری کام ہیں۔ایک یہ کہ عرب میں اشاعت ہو، دوسرے یورپ پر ا تمامِ حجت کریں۔عرب پر اس لئے کہ اندرونی طور پر وہ حق رکھتے ہیں۔ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہو گا کہ ان کو معلوم بھی نہ ہوگا کہ خدا نے کوئی سلسلہ قائم کیا ہے اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ان کو پہنچا ئیں۔اگر نہ پہنچائیں تو معصیت ہوگی۔ایسا ہی یورپ والے حق رکھتے ہیں کہ ان کی غلطیاں ظاہر کی جاویں کہ وہ ایک بندہ کو خدا بنا کر خدا سے دور جا پڑے ہیں۔یورپ کا تو یہ حال ہو گیا ہے کہ واقعی اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ کا مصداق ہو گیا ہے۔طرح طرح کی ایجادیں صنعتیں ہوتی رہتی ہیں۔اس سے تعجب مت کرو کہ یورپ ارضی علوم وفنون میں ترقی کر رہا ہے۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب آسمانی علوم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو پھر زمین ہی کی باتیں سُوجھا کرتی ہیں۔یہ کبھی ثابت نہیں ہوا کہ نبی کلیں بھی بنایا کرتے تھے یا اُن کی ساری کوششیں اور ہمتیں ارضی ایجادات کی انتہا ہوتی تھیں۔آج جو وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَھانے کا زمانہ ہے یہ مسیح موعود ہی کے وقت کے لئے مخصوص تھا، چنانچہ اب دیکھو کہ کس قدر ایجاد یں اور نئی کانیں نکل رہی ہیں۔ان کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی ہے۔میرے نزدیک طاعون بھی اسی میں داخل ہے اس کی جڑ زمین میں ہے۔پہلا اثر چوہوں پر ہوتا ہے۔غرض اس وقت زمینی علوم کمال تک پہنچ رہے ہیں۔توہینِ اسلام کی حد ہو چکی ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ اس پچاس ساٹھ سال میں جس قدر کتا ہیں، اخبار رسالے تو ہین اسلام میں شائع ہوئے ہیں، کبھی ہوئے تھے ؟ پس جب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے، تو کوئی مومن نہیں بنتا جب تک کہ اُس کے دل میں غیرت نہ ہو۔بے غیرت آدمی دیوث ہوتا ہے۔اگر اسلام کی عزت الاعراف :۱۷۷ الزلزال : ٣