حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 57 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 57

حیات احمد ۵۷ جلد پنجم حصہ دوم اور بعض ضالین ضرور ہوں گے۔اب زمانہ بآواز بلند کہتا ہے کہ اس سورۃ شریف کے موافق ترتیب آخر سے شروع ہوگئی ہے۔آخری فرقہ نصاریٰ کا رکھا ہے۔اب دیکھو کہ اس میں کس قدر لوگ داخل ہو گئے ہیں ایک بشپ نے اپنی تقریر میں ذکر کیا ہے کہ نہیں لاکھ مسلمان مرتد ہو چکے ہیں اور یہ قوم جس زور شور کے ساتھ نکلی ہے اور جو طریق اس نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے اختیار کئے ہیں۔ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی عظیم الشان فتنہ نہیں ہے۔اب دیکھو کہ تین باتوں میں سے ایک تو ظاہر ہوگئی پھر دوسری قوم مَغْضُوب ہے۔مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وقت بھی آگیا اور وہ بھی پورا ہورہا ہے یہودیوں پر غضب الہی اس دنیا میں بھی بھڑ کا اور طاعون نے اُن کو تباہ کیا۔اب اپنی بدکاریوں اور فسق و فجور کی وجہ سے طاعون بکثرت پھیل رہی ہے کتمان حق سے وہ لوگ جو عالم کہلاتے ہیں نہیں ڈرتے اب ان دونوں کے پورا ہونے سے تیسرے کا پتہ صاف ملتا ہے کہ انسان کا قاعدہ ہے کہ جب چار میں سے تین معلوم ہوں تو چوتھی ھے معلوم کر لیتا ہے اور اس پر اس کو امید ہو جاتی ہے۔نصاریٰ میں لاکھوں داخل ہو گئے، مَغْضُوب میں داخل ہوتے جاتے ہیں مُنْعَمُ عَلَيْهِ کا نمونہ بھی اب خدا دکھانا چاہتا ہے، جبکہ سورہ فاتحہ میں دعا تھی اور سورہ نور میں وعدہ کیا گیا ہے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ سورہ نور میں دعا قبول ہوگئی ہے۔غرض اب تیسرا حصہ مُنْعَمُ عَلَيْهِ کا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اس کو روشن طور پر ظاہر کر دے گا اور یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے جو ہو کر رہے گا۔مگر اللہ تعالیٰ انسان کو ثواب میں داخل کرنا چاہتا ہے تا کہ وہ استحقاق جنت کا ثابت کر لیں۔جیسا پیغمبر خدا ﷺ کے زمانہ صلى الله میں ہوا خدا تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ وہ صحابہ کے بدوں ہی پیغمبر خدا عے کو ہر قسم کی فتوحات عطا فرماتا ،مگر نہیں۔خدا تعالیٰ نے صحابہ کو شامل کر لیا تا کہ وہ مقبول ٹھہریں۔اس سنت کے موافق یہ بات ہماری جماعت کو پیش آگئی ہے کہ بار بار تکلیف