حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 48
حیات احمد ۴۸ جلد پنجم حصہ دوم منہ کے سامنے آجائیں گی اور ظاہر ہو جائیں گی اور جو ظاہر ہیں وہ نا قابل التفات اور مخفی ہو جائیں گی اور پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ خدا کا فضل ہے۔جس کا وعدہ دیا گیا ہے۔یہ ضرور آئے گا اور کسی کی مجال نہیں جو اس کو رد کر سکے۔۔۔اور پھر فرمایا۔کہہ مجھے میرے خدا کی قسم ہے کہ یہی بات سچ ہے اس امر میں نہ کچھ فرق آئے گا اور نہ یہ امر پوشیدہ رہے گا اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو تجھے تعجب میں ڈالے گی یہ اس خدا کی وحی ہے جو بلند آسمانوں کا خدا ہے۔میرا رب اس صراط مستقیم کو نہیں چھوڑتا جو اپنے برگزیدہ بندوں سے عادت رکھتا ہے اور وہ اپنے بندوں کو بھولتا نہیں جو مدد کرنے کے لائق ہیں۔سو تمہیں اس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہو گی مگر اس فیصلہ میں اس وقت تک تاخیر ہے جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۷۸ تا ۲۸۲) پھر آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں۔یہ پیشگوئی ہے جو اس وقت کی گئی تھی جبکہ مخالف دعویٰ سے کہتے تھے کہ بالیقین مقدمہ خارج ہو جائے گا اور میری نسبت کہتے تھے کہ ہم ان کے گھر کے تمام دروازوں کے سامنے دیوار کھینچ کر وہ دکھ دیں گے کہ گویا وہ قید میں پڑ جائیں گے اور جیسا کہ میں ابھی لکھ چکا ہوں خدا نے اس پیشگوئی میں خبر دی کہ میں ایک ایسا امر ظاہر کروں گا۔جس سے جو مغلوب ہے وہ غالب اور جو غالب ہے وہ مغلوب ہو جائے گا۔۔۔۔پھر فیصلہ کا دن آیا۔اس دن ہمارے مخالف بہت خوش تھے کہ آج اخراج مقدمہ کا حکم سنایا جائے گا اور کہتے تھے کہ آج سے ہمارے لئے ہر ایک قسم کی ایذا کا موقعہ ہاتھ آ جائے گا۔وہی دن تھا جس میں پیشگوئی کے اس بیان کے معنے کھلنے تھے کہ وہ ایک امرخفی ہے جس سے مقدمہ پلٹا کھائے گا اور آخر میں وہ ظاہر کیا جائے گا۔سوایسا اتفاق ہوا کہ اس دن ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین کو خیال آیا کہ پرانی مثل کا انڈیکس دیکھنا چاہیے یعنی ضمیمہ جس میں ضروری احکام کا خلاصہ ہوتا ہے۔جب وہ دیکھا گیا تو اس میں وہ بات نکلی جس کے نکلنے