حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 45
حیات احمد ۴۵ جلد پنجم حصہ دوم ہر قسم کے ناموافق حالات کے آخر وہی ظہور میں آیا۔اگر چہ قارئین کرام اس دیوار محاصرہ کے حالات پڑھ چکے ہیں مگر اس کو ختم کرتے ہوئے حضرت اقدس کا وہ ایمان افزا بیان بھی یہاں درج کرتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کے قبل از وقت بتائے ہوئے نشانات کی صداقت کے ثبوت میں اس نشان کا ذکر فرمایا چنانچہ حقیقۃ الوحی کے صفحہ ۲۶۶ پر تحریر فرمایا۔1900 ء میں ایسا اتفاق ہوا کہ میرے چچا زاد بھائیوں میں سے امام الدین نام ایک سخت مخالف تھا۔اس نے یہ ایک فتنہ برپا کیا کہ ہمارے گھر کے آگے ایک دیوار کھینچ دی اور ایسے موقعہ پر دیوار کھینچی کہ مسجد میں آنے جانے کا راستہ رک گیا اور جو مہمان میری نشست کی جگہ پر میرے پاس آتے تھے یا مسجد میں آتے تھے وہ بھی آنے سے رک گئے اور مجھے اور میری جماعت کو سخت تکلیف پہنچی گویا ہم محاصرہ میں آگئے ناچار دیوانی میں منشی خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ حج کے محکمہ میں نالش کی گئی۔جب نالش ہو چکی تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مقدمہ نا قابل فتح ہے اور اس میں یہ مشکلات ہیں کہ جس زمین پر دیوار کھینچی گئی ہے اس کی نسبت کسی پہلے وقت کی مثل کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ مدعا علیہ یعنی امام الدین قدیم سے اس کا قابض ہے اور یہ زمین دراصل کسی اور شریک کی تھی جس کا نام غلام جیلانی تھا اور اس کے قبضہ میں سے نکل گئی تھی تب اس نے امام الدین کو اس زمین کا قابض خیال کر کے گورداسپور میں بصیغہ دیوانی نالش کی تھی اور بوجہ ثبوت مخالفانہ قبضہ کے وہ نالش خارج ہوگئی تھی۔تب سے امام الدین کا اس پر قبضہ چلا آتا ہے اب اسی زمین پر امام الدین نے دیوار کھینچ دی ہے کہ یہ میری زمین ہے غرض نالش کے بعد ایک پرانی مثل کے ملاحظہ سے یہ ایسا عقدہ لا ینحل ہمارے لئے پیش آ گیا تھا جس سے صریح معلوم ہوتا تھا کہ ہمارا دعویٰ خارج کیا جائے گا کیونکہ جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے ایک پرانی مثل سے یہی ثابت ہوتا تھا کہ زمین پر قبضہ امام الدین کا ہے اس سخت مشکل کو دیکھ