حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 43 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 43

حیات احمد ۴۳ جلد پنجم حصہ دوم راستبازوں کی نسبت نکالتے رہے ہیں۔یہ لوگ اپنی گندی اور نا پاک تحریروں میں جب ہماری نسبت جانتے ہیں کہ یہ سلسلہ دنیا کمانے اور لوگوں کو جال میں پھنسانے کے لئے کھڑا کیا گیا ہے اور یہ سب جھوٹے ہیں جو اکٹھے ہو کر دوکان کھولے ہیں تو اس پر بڑا فخر کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں کہ دیکھا تیری عقل کیسی تیز اور ہمارا فہم کیسا نکتہ رس ہے اور ہم نے کیسے اندر کا راز پالیا ہے۔عنقریب یہ گستاخ جلد باز جو خدا تعالیٰ کی خوفناک نہی ( لا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ) سے نہیں ڈر تے سمجھ لیں گے کہ کون اللہ تعالیٰ کی سیدھی راہ پر ہے اور کون ضلالت اور ہلاکت کے اتھاہ کنویں میں گرنے کی راہ پر قدم مار رہا ہے۔غرض ہم اس جلالی وحی کے شاہد ہیں اور عرش عظیم کا رب اور عَالَمُ السِر و اللعَلَنِ خوب جانتا ہے کہ نزول کے وقت سے اس کی کیسی زندہ عظمت ہمارے دلوں پر کندہ ہے اور آج ہم کس فخر سے اور خوشی سے اپنے تئیں مبارکباد دیتے ہیں کہ خدائے رحیم نے ہمارے سامنے اپنا یہ کلام نازل کیا اور پھر اپنے فضل سے ہمیں اس کے پورا ہونے کے وقت تک زندہ رکھا۔اب بدگمان دنیا کے تو ہمات کے ازالہ اور مومنین کے ایمان کی ترقی کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ دکھایا جائے کہ یہ جلالی وحی قبل از وقت یعنی اپنے پورا ہونے کی تاریخ سے جو ۲ ا راگست ۱۹۰۱ء سے کتنی مدت پہلے اور کتنی مخلوق میں شائع کی گئی۔یاد رکھو! اور خوب یا درکھو!! کہ بجز صادق کے کسی کا حوصلہ نہیں کہ وقت سے پہلے غیب کی باتوں کو شائع کرے۔سب سے پہلے میں نے اس وحی کو اپنی ایک مفصل چٹھی میں جو بتاریخ 4 جنوری ۱۹۰۰ ء اخبار الحکم قادیان درج ہوئی تھی شائع کیا۔پھر وہی چٹھی سیرت مسیح موعود کے نام سے رسالہ کی صورت میں جولائی ۱۹۰۰ء میں مطبع انوار احمد یہ قادیان میں چھپی پھر یہ وحی اور ایک صورت ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء میں اربعین نمبر ۳ کے اندر شائع ہوئی۔پھر میں نے ایک مفصل چٹھی میں جو سے ار جولائی ۱۹۰۰ء میں سیالکوٹی جماعت کو اس مقدمہ کی نسبت لکھی اس طرح کلام کیا دیوار کے مقدمہ میں ناکامی ہوئی دیوانی کا حکم ہوا وَ ذَلِكَ لَا مُرِ قَدَّرَهُ اللهُ لِيْتَمَّ مَا قَالَ فِيمَا أَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ الرَّحَى تَدُورُ وَيَنْزِلُ الْقَضَاءُ وَكَمَا قَالَ عَزَّمِنُ قَائِلٍ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى فَالنَّاسُ الْيَوْمَ