حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 36 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 36

حیات احمد ۳۶ جلد پنجم حصہ دوم کے اس نشان کا انکار کرنا آسان اور بے نتیجہ بات نہیں اس لئے کہ لازماً اس انکار سے الحاد کا وہ کیڑا پیدا ہوگا جو آخر انبیاء علہیم السلام کے معجزات اور آیات کی نسبت ایمان کے مغز کو کھا جائے گا۔پیشگوئی کی حقیقت یہی ہے کہ وہ وقت سے پہلے ہو یعنی ایسے وقت میں ہو جبکہ فریقین میں یعنی پیشگوئی کرنے والے میں اور ان لوگوں میں جن کی نسبت پیشگوئی کی گئی مساوات کی کوئی نسبت نہ ہو ایک طرف ایک مہجور ومتروک القوم اور ہر قسم کے مکائد اور منصوبوں کا نشانہ اور عرفی اور مادی لحاظ میں پورا بے سامان ہو اور دوسری طرف مادی کامیابی کے لئے جتنے سامان ظاہر بین اور مادہ پرست نگاہ میں ممکن ہو سکتے ہیں میسر ہوں۔پھر وہ مدعی غیب کی بات سنانے والا کامیاب ہو جائے اور اس کی اسی طرح عزت اور شوکت ظاہر ہو جیسے اس کی پیشگوئی کے الفاظ دعوی کرتے تھے ورنہ اگر ان ملاحظات سے چشم پوشی کی جائے تو وہ تمام واقعات جن کی چٹان پر عظیم الشان نبوتوں اور رسالتوں کی پائیدار عمارت اٹھائی گئی ہے معمولی واقعات کی نشیب زمین پر اتر آتے اور نبوتوں کو شک اور نا پائیداری کے گڑھے میں لے گرتے ہیں حضرت کلیم اللہ علیہ السلام کا واقعہ دریا سے قوم کے ساتھ بیچ کر گزر جانا اور ان کے دشمنوں کا اسی پانی کی راہ سے آگ میں جانا سرسری نگاہ میں قانونِ قدرت کے موافق معمولی واقعہ ہے ایسا ہوا ہی کرتا ہے کہ کبھی ایک گروہ دریا سے سلامت نکل گیا اور معاً اس کے پیچھے دوسرا گروہ جو انہی نقوش اور پگڈنڈی کو سلامتی کی کشتی یقین کرتا تھا خونخوار موجوں کا لقمہ بن گیا پھر اسے کس چیز نے ایسے سُر خاب کے پر لگا دیئے جو قرآن مجید کے مکرم دفتر میں ثبت ہو کر حضرت مثیل موسییٰ محمد نبی اللہ کے واقعات کا تو طبیہ اور تمہید اور مشبہ بہ قرار دیا گیا اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی نسبت ایک بے سامان اور ناتوان انسان کے منہ سے خدائے قدوس ہمہ قدرت کی طرف منسوب کر کے پر تحدی پیشگوئی ہوچکی تھی۔جسے خدا کی محفوظ کتاب نے ان پر شوکت اور لرزہ انگن آیات میں نقل کیا ہے فَأْتِيَهُ فَقُولَا إِنَّا رَسُوْلَا رَبَّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَاءِ يْلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ قَدْ جِئْتُكَ بِايَةٍ مِنْ رَّبَّكَ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى إِنَّا قَدْ أُوحِيَ إِلَيْنَا أَنَّ الْعَذَابَ عَلَى مَنْ كَذَّبَ وَتَوَلى يا ا طه : ۴۹،۴۸