حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 34 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 34

حیات احمد ۳۴ جلد پنجم حصہ دوم انہیں اللہ کی گرفت سے بچالیں گے اتنے میں اللہ نے ویسی راہوں سے انہیں جالیا جن کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا اور ان کے دل میں رعب ڈال دیا جس سے انہوں نے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے ویران کیا اور کچھ مومنوں کے ہاتھ سے تباہ ہوئے۔سوایسے واقعات سے دانشمند و اسبق سیکھو۔چار بجے عصر کا وقت ہے جس کی نسبت خدا کی بزرگ کتاب قرآن مجید میں آیا ہے وَالْعَصْرِ اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ هم عادتا مسجد مبارک میں خدا کی نصرتوں کے منتظر بیٹھے ہوئے ہیں۔میں ہوں اور عزیز مولوی محمد علی صاحب ایم اے ہیں۔مرزا خدا بخش صاحب ہیں۔حکیم فضل الدین صاحب ہیں۔قاضی ضیاء الدین صاحب ہیں۔سراج الحق صاحب ہیں۔شیخ عبدالرحیم صاحب ہیں سامنے سے میر ناصر نواب دوڑے دوڑے آتے اور بشارت دیتے ہیں کہ دیوار کو وہی بھنگی ڈھا رہا ہے۔جو اس شر اور فتنہ کے دن اس کے کھڑا کرنے کے لئے مقرر ہوا تھا اس بشارت کو سن کر سب دوست اس عجیب اور دلکش نظارہ کو دیکھنے مسجد کے اوپر دوڑے جاتے ہیں اور میں شکر اور حمد سے معمور ہو کر سجدہ میں گر جاتا ہوں اس وقت میں ایک عجیب اور بین فرق دیکھتا ہوں اپنی حالت میں اور ایسے موقعہ پر ابنائے دنیا میں ایک مادہ پرست ابنِ دنیا اس وقت کیا کرتا۔وہ ایسے وقت میں جب کہ خدا نے اس کے دشمنوں کی ناک پر ذلت کا داغ لگایا اور ہر دعوے میں انہیں نیچا دکھایا۔کس پیرا یہ میں اپنے دلی جوشوں کو ظاہر کرتا۔اس کے بیان کی کچھ ضرورت نہیں۔نفسانی جوشوں کے پرستار ذاتی انتقاموں اور کینہ کشیوں کے شیدا۔اسی جہان اور اس کے دکھوں اور سکھوں تک نظر کو محمد و در رکھنے والے ایسے وقتوں میں جو کچھ کرتے اور کہتے اور سنتے اور سناتے ہیں کون نہیں جانتا مگر ہم ہیں کہ پہلے سے بھی زیادہ اور بہت زیادہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں کے مقابل سرنگوں ہوئے جاتے ہیں اور مارے شرم کے پانی پانی ہو رہے ہیں کہ ہم ناکاروں ، گنہگاروں پر اس کے اس قد راحسان اور افضال ہیں دل میں اپنے اندر اس عہد کے لئے قوت محسوس کرتے ہیں اب سے ہم اس کے اور اسی کے نئے بندے ہوں گے اس لئے کہ وہ ابراہیم اور اسماعیل اور محمد ( صلوات اللہ علیہم اجمعین ) کا خدا آج سے ہمارا نیا خدا ہوا اس نے اپنے برگزیدوں کو بھیٹریوں اور چیتوں کے حملوں سے بچایا جو انہیں العصر :٣٢