حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 26 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 26

حیات احمد ۲۶ جلد پنجم حصہ دوم کے بعد کچھ دن چڑھے احباب کا مجمع ہو گیا اور مقدمہ ہی کے متعلق ذکر شروع ہوا کوئی آٹھ اور نو بجے کے درمیان حضرت مسیح موعود کی خدمت میں ہمارے عزیز بھائی ڈاکٹر فیض قادر صاحب وٹرنری اسٹنٹ کپورتھلہ کے بھائی منشی فیض رحمن صاحب ٹریژری کلارک گورداسپور کے مقدمہ کے لئے دعا کے واسطے عرض کی گئی۔حضرت اقدس نے ان کو مخاطبت کر کے فرمایا۔” میرا مذہب تو یہ ہے کہ جس کو بلا سے بچنا ہو وہ پوشیدہ طور پر خدا سے صلح کرلے اور اپنی ایسی تبدیلی کر لے کہ خود اسے محسوس ہو جاوے کہ میں وہ نہیں ہوں خدا تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ کے مذہب کی جڑ خدا پر ایمان ہے اور خدا پر ایمان چاہتا ہے کہ بچی پر ہیز گاری ہو خدا کا خوف ہو۔تقویٰ والے کو خدا تعالیٰ کبھی ضائع نہیں کرتا وہ آسمان سے اس کی مدد کرتا ہے فرشتے اس کی مدد کو اترتے ہیں اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ متقی سے معجزہ ظاہر ہو جاتا ہے اگر انسان خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری صفائی کر لے اور ان افعال و اعمال کو چھوڑ دے جو اس کی نارضامندی کا موجب ہیں تو وہ سمجھ لے کہ برکت سے طے پا جائے گا۔ہمارا ایمان تو آسمانی کارروائیوں پر ہی ہے یہ سچی بات ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کسی کا ہو جائے تو سارا جہان اپنی مخالفت سے کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔جس کو خدا محفوظ رکھنا چاہے اس کو گزند پہنچانے والا کون ہوسکتا ہے؟ پس خدا پر بھروسا کرنا ضروری ہے اور یہ بھروسا ایسا ہونا چاہیے کہ ہر ایک شئے سے بکی پاک ہو۔اسباب ضروری ہیں مگر خلق اسباب بھی خدا تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے وہ ہر ایک سبب کو پیدا کر سکتا ہے۔اس لئے اسباب پر بھی بھروسہ نہ کرو اور یہ بھروسہ یوں پیدا ہوتا ہے کہ نمازوں کی پابندی کرو۔اور نمازوں میں دعاؤں کا التزام رکھو ہر ایک قسم کی لغزش سے بچنا چاہیے اور ایک نئی زندگی کی بنیاد ڈالنی چاہیے یہ یاد رکھو! عزیز بھی ایسے دوست نہیں ہوتے جیسے خدا عزیز ہوتا ہے وہ راضی ہو تو جہاں راضی ہو جاتا ہے اگر وہ کسی پر رضامندی ظاہر کرے تو الٹے اسباب کو سیدھا کر دیتا ہے۔مصر کو مفید بنا الرعد : ۱۲