حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 323 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 323

حیات احمد ۳۲۳ جلد پنجم حصہ دوم آپ نصوص قطعیہ قرآنیہ اور حدیثیہ سے اپنے مدعا کو ثابت کریں اور اس سوال کا جواب بھی عربی زبان میں دیں اور حاضرین کو ترجمہ کر کے سنا دیں۔جیسا کہ میں نے سنا دیا ہے۔اس کے بعد مولوی ابو یوسف صاحب بیٹھ گئے اور مولوی ابراہیم صاحب نے نقل پر چہ سوال طلب کیا اس پر مولوی کرم دین صاحب اٹھ کھڑے ہوئے اور چند زولیدہ لفظ عربی زبان میں ایک پرچہ پر لکھ کر آپ نے پڑھے جن کا یہ مطلب تھا کہ اہل جلسہ عربی دان نہیں ہیں اس لئے عربی زبان میں تکلم فائدہ مند نہیں اور اس کے بعد یہ اعتراض بھی پیش کیا کہ آپ نے باب قَالَ يَقُولُ کے بعد بجائے ان مذکورہ کے ان مفتوحہ پڑھا ہے اور یہ از روئے قاعدہ نحو غلط ہے۔اس پر مولوی ابو یوسف صاحب نے جواب دیا کہ اس مجلس میں بہت سے عربی دان موجود ہیں کسی اور نے بھی میری لغزش سنی ہے یا صرف آپ ہی نے۔اس کا اہل جلسہ میں سے سب نے انکار کیا اور کہا کہ ہم نے یہ غلطی نہیں سنی حتی کہ مولوی ابراہیم صاحب نے نکتہ چیں صاحب کی تائید نہ کی اور ان کی اس حرکت کو ناپسند کیا پھر مولوی ابو یوسف صاحب نے فرمایا کہ آپ ہمارے مخاطب نہیں۔آپ نے یہ دخل در معقولات کیا ہے آپ بولنے کے قطعا مجاز نہیں۔ہاں اگر مولوی ابراہیم صاحب کی اعانت کرنا چاہتے ہیں تو صرف ان سے آہستگی کے ساتھ کلام کریں۔تب میر مجلس صاحب کی رائے سے یہ بات قرار پائی کہ سوائے مولوی ابراہیم صاحب کے اور دوسری جانب سوائے مولوی ابو یوسف صاحب کے دوسرے شخص کو بولنے کی اجازت نہیں اور با تفاق رائے یہ بھی قرار پایا کہ مضمون مباحثہ اردو زبان میں ہی لکھا جاوے تا کہ عام لوگ فائدہ اٹھائیں اور مولوی کرم الدین صاحب خاموش ہوئے۔اور مولوی ابراہیم صاحب جواب دینے کے لئے اٹھے اور کتاب کی صورت میں ایک بڑی لمبی لکھی ہوئی تحریر پڑھنی شروع کی اس پر مولوی ابویوسف صاحب نے کہا کہ ہم اس کو کہاں تک لکھتے جائیں گے۔انہوں نے تو بجائے تقریر کے ایک کتاب پڑھنی شروع کر دی ہے۔تب بحکم میر مجلس صاحب مولوی ابراہیم صاحب نے وعدہ کیا کہ میں جو کچھ سناؤں گا جواب کے لئے اس کی حرف بحرف نقل دیدوں گا۔اور کل ۱۰ بجے سے پہلے پہلے نقل مولوی ابو یوسف صاحب کے پاس پہنچ جاوے گی اور یہ بھی کہا کہ مجھے اپنی تقریر کے لئے کم سے کم