حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 322
حیات احمد ۳۲۲ جلد پنجم حصہ دوم ان سب امور کا انتظام آپ کے ذمہ ہے ہم اس میں سے کوئی بات بھی اپنے ذمہ نہیں لے سکتے بلکہ اپنی جماعت کا بھی ذمہ نہیں اٹھا سکتے۔آپ لوگوں کو اختیار ہوگا اگر ہماری جماعت میں سے کوئی شخص بے اعتدالی کرے تو آپ اس کو جلسہ مباحثہ میں سے باہر نکال دیں۔خیر اس پر بہت کچھ کی بیص اور حجت ہوتی رہی اور فریق ثانی حفظ امن کا ذمہ دار نہ ہوا۔آخر دونوں طرف کے لوگ شہر کے ایک معزز رئیس مہر بہاول بخش ذیلدار کے پاس گئے انہوں نے اس بات کا ذمہ اٹھالیا کہ حفظ امن کا انتظام کر دیں گے بلکہ تحصیلدار صاحب اور تھانہ دار صاحب کو بھی عین جلسہ مباحثہ میں لے آویں گے تب ذیلدار صاحب موصوف حسب قرار داد خود تحصیلدار صاحب کے پاس گئے اور حفظ امن اور مکان جلسہ کا کل فیصلہ کر کے آگئے اور فریقین کے معتبر اشخاص کو علیحدہ علیحدہ مطلع کر دیا کہ عیدگاہ شہر میں ٹھیک 4 بجے سب کو جمع ہونا چاہیے اور دونوں فریق کے علماء اپنے اپنے ساز و سامان سے تیار ہوو ہیں۔عند الطلب بلا عذ روحیلہ موقع پر حاضر ہو جاویں۔پس بموجب ارشاد ذیلدار صاحب دونوں فریق تیار ہو گئے اور ٹھیک ۴ بجے با بو غلام حیدر صاحب تحصیلدار ومیاں دیوی سنگھ صاحب ڈپٹی انسپکٹر مکان مباحثہ پر تشریف لے آئے۔اور فریقین کو طلب کیا فریقین کے علماء آ پہنچے اور باہم آمنے سامنے بیٹھ گئے اور باقی مخلوقات میدان عید گاہ میں مولوی صاحبان کے ارد گرد بیٹھ گئی۔تحصیلدار صاحب نے اعلان فرمایا کہ کسی شخص کو سوائے مناظرین کے بولنے کی اجازت نہیں اور نہ اشارہ اور کنایہ سے کوئی شخص کسی جانب سے کسی قسم کی شرارت کرے جو شخص ایسا کرے گا اس سے قانونی سلوک کیا جاوے گا اور چاروں طرف پولیس کے سپاہی متعین کئے گئے۔تب باجازت تحصیلدار صاحب مولوی ابو یوسف محمد مبارک علی صاحب اٹھے۔انہوں نے مولوی محمد ابراہیم صاحب کو مخاطب کر کے عربی زبان میں بصورت سوال ایک مختصر سی عبارت پڑھی جو اسی وقت لکھی گئی تھی اس کا ماحاصل یہ تھا کہ آپ حضرت مسیح کی حیات جسمانی اور آسمان پر بجسد عنصری مرفوع ہونے کے قائل ہیں اور اس باب میں ہم سے آپ تنازعہ کرتے ہیں اور یہ امر ہمارے نزدیک خدا تعالیٰ کی سنت مستمرہ کے برخلاف اور محالات عادیہ میں سے ہے اس لئے آپ ایک امر محدث اور منکر کے دعویدار ہیں نا کہ ہم لہذا آپ پر واجب ہے کہ