حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 316 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 316

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم اس دھمکی میں دراصل مقدمات کا الٹی میٹم تھا۔جب حضرت اقدس نے ۷ اکتو بر ۱۹۰۲ء کی شام کو فر مایا ”مولوی کرم دین صاحب بھیں نے سائیں مہر علی شاہ گولڑوی کے پردہ دری والے مضمون کو پڑھ کر اور سن کر ایک خط لکھا۔جس میں انہوں نے دھمکی دی تھی کہ اب جو کچھ مجھ سے ہو سکے گا میں کروں گا۔“ فرمایا۔ان کولکھ دو کہ تمہاری دھمکی تم پر ہی پڑے گی جو دوسرے مولویوں پر پڑی وہی تم پر پڑے گا۔ہماری باتیں آسمانی ہیں ہم منصوبہ نہیں سوچتے۔یہ نامردی ہے کہ تم نے نام تک نہیں لکھا۔“ حضرت اقدس کو اللہ تعالیٰ نے کوہ وقار قلب دیا تھا۔وہ گالیاں سنتے اور دعائیں کرتے آخر مولوی کرم دین نے پیر صاحب کی سازش سے بڑے مشوروں کے بعد جہلم میں ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ دائر کر دیا (زیر دفعه۵۰۱،۵۰۰ تعزیرات ہند ) یہ مقدمہ حضرت اقدس وراقم الحروف ایڈیٹرالحکم اور حضرت حکیم فضل الدین صاحب کے خلاف دائر کیا گیا۔رائے سنسکار چند ضلع ہوشیار پور کے رہنے والے پرانے زمانہ کی وضع کے نہایت شریف الطبع اور ذہین جج تھے۔انہوں نے ۷ار جنوری ۱۹۰۳ء تاریخ مقرر کر دی۔جہلم کا ایک مباحثہ حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ جماعت اہل حدیث کے مشہور اور ممتاز عالم باعمل لیڈر تھے ابتداء میں سلسلہ کی کتب کو نہ دیکھنے کی وجہ سے وہ خاموش تھے یہاں تک کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ان کے پاس جب فتویٰ کفر لے کر گئے اور اپنے مسلک کی بنا پر مرتبہ فتویٰ کفر پر ان کے دستخط چاہے تو حضرت مولوی صاحب نے رعایت تقویٰ کو مد نظر رکھ کر ایک عبارت لکھ دی جس سے کفر کی تائید نہ ہوتی تھی۔اس کے بعد انہوں نے خود تحقیقات کی تو آپ نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔اور فتویٰ کفر کے متعلق اعلان براءت کیا۔اور کامل نیاز مندی اور اخلاص سے داخل سلسلہ ہوکر تبلیغ واشاعت کے کام میں مصروف ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں عظیم الشان کامیابی