حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 302 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 302

حیات احمد مخالفت کے سمندر میں طوفان اور حضرت اقدس طوفان میں چٹان جلد پنجم حصہ دوم جیسا کہ الہی سلسلوں کے لئے یہ عادت اللہ ہے کہ ان کے آغاز کے ساتھ ہی مخالفت کا ایک طوفان برپا ہوتا ہے اور کم ہونے کے بجائے اس کی شدت بڑھتی جاتی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہونے والا ما مور اپنے دعویٰ سے پیشتر ساری قوم کا امید گاہ ہوتا ہے اور اس کے کردار کے متعلق متفقہ شہادت یہی ہوتی ہے کہ وہ راستباز اور پاکیزہ فطرت انسان ہے اور قوم کی آئندہ ترقی کے متعلق اس کے وجود سے امیدیں وابستہ ہوتی ہیں لیکن باوجود اس کے جونہی وہ اللہ تعالیٰ کے اعلام پر یہ دعوی کرتا ہے اس کی اپنی قوم اس کی مخالفت کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے اور اپنے زعم باطل میں یہ سمجھتی ہے کہ اس سلسلہ الہی کو نیست و نابود کر دیا جائے گا اور جہاں تک اسباب ظاہر کا تعلق ہے ان کا یہ قیاس اور اڈ عا صحیح نظر آتا ہے لیکن مخالفت کے اس طوفان عظیم میں مامور من اللہ اپنے رب سے بشارتیں پاتا اور انہیں شائع کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا اور مخالفت کی اس شدت میں وہ ایک یقین محکم کے ساتھ اعلان کرتا ہے اور یہی ہو کر رہتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی یہی ہوا اور ہونا چاہیے تھا۔نہ صرف یہی کہ سنت اللہ یہی ہے بلکہ اس لئے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے قبل از وقت ان اٹھنے والے طوفانوں اور ان میں بہر رنگ کامیاب ہونے کی خبر دے دی تھی اور آپ نے اعلام الہی کے ماتحت شائع کر دیا تھا۔یہ جان آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے اور الہی بشارت سلامت بر تو اے مرد سلامت آ رہی تھی۔آغاز سلسلہ سے مختلف قسم کی تدبیروں کا اہتمام سلسلہ کو مٹانے میں رہا مگر ہر میدان میں