حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 21
حیات احمد ۲۱ الہی سلسلوں کی ایک خصوصیت منہاج نبوت کا ایک اصل جلد پنجم حصہ دوم قرآن کریم پر تدبر کرنے اور منہاج نبوت اور انبیاء علیہم السلام کی زندگی کے حالات پر غور کرنے سے یہ صاف سمجھ میں آتا ہے کہ الہی سلسلے ابتلاؤں اور مخالفت کے طوفان میں پرورش پاتے اور بڑھتے اور پھولتے ہیں قرآن کریم میں آدم سے لے کر سید الاولین والآخرین حضرت خاتم النبین علی کے زمانہ تک ہر عہد میں مامورین و مرسلین کی مخالفت میں آدم و ابلیس کا نیا مظاہرہ ہوا۔یہ آدم و ابلیس کی جنگ ہر زمانہ میں شدت اختیار کرتی گئی یہاں تک کہ حضرت نبی کریم علی کے زمانہ میں شدت کے انتہائی نقطہ پر پہنچ گئی چونکہ تمام نبوتیں آپ کے وجود باجود میں نہ صرف جمع ہو گئیں بلکہ اپنے انتہائی کمال پر پہنچ گئی تھیں اس لئے جو مصائب اور مشکلات ہر نبی کے راستہ میں آئی تھیں وہی آپ کے مقابلہ میں جمع ہو گئیں اور ان ابتلاؤں اور مصائب میں آپ کے کمال صبر اور استقلال کا بھی لانظیر نمونہ نظر آتا ہے۔حقیقت میں اخلاقی قوتوں کا ظہور و بروز ابتلاؤں اور مشکلات کے سلسلہ میں ہوتا ہے۔پس حضرت امام العصر کا زمانہ حیات بھی ہر قسم کے مشکلات اور ابتلاؤں کا زمانہ نظر آتا ہے۔آپ اپنے یوم بعثت سے ہی میدان جنگ میں انسانی حیثیت سے یک و تنہا کھڑے تھے اور جیسے جیسے جماعت بڑھتی جاتی تھی ابتلاؤں کے نئے سامان پیدا ہوتے جاتے تھے مگر خارق عادت حوصلہ اور استقلال آپ کو دیا گیا تھا اور اس بلند ہمتی کو اُن مبشرات نے کامل یقین اپنی کامیابی کا دے دیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی وحی سے ملتے تھے۔اس اصل اور سنت اللہ کے موافق ۱۹۰۱ء کا سال اگر چہ ترقی کا ہر نیا دن لا تا تھا مگر ساتھ ہی نے فتن بھی پیدا ہو جاتے تھے جن کا سلسلہ لمبا ہو جاتا تھا۔چنانچہ پہلا بڑا ابتلا محاصرہ کا تھا۔