حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 20
حیات احمد ۲۰ جلد پنجم حصہ دوم کھڑی ہے سر پہ ایسی ایک ساعت کہ یاد آ جائے گی جس سے قیامت مجھے یہ بات مولیٰ نے بتا دی فَسُبحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْاَعَادِي از آمین صاحبزادگان مطبوعه ۲۷ / نومبر ۱۹۰۱ء۔تذکره صفحه ۳۳۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ”ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا کہ مبارک احمد میرا چوتھا لڑ کا فوت ہو گیا ہے۔اس سے چند دنوں کے بعد مبارک احمد کو سخت تپ ہوا اور آٹھ دفعہ فش ہو کر آخری غش میں ایسا معلوم ہوا کہ جان نکل گئی ہے۔آخر دعا شروع کی اور ابھی میں دعا میں تھا کہ سب نے کہا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے۔تب میں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا، تو نہ دم تھا نہ نبض تھی۔آنکھیں میت کی طرح پتھر ا گئیں تھیں۔دُعانے ایک خارق عادت اثر دکھلایا اور میرے ہاتھ رکھنے سے ہی جان محسوس ہونے لگی ، یہاں تک کہ لڑکا زندہ ہو گیا اور زندگی کے علامات پیدا ہو گئے۔تب میں نے بلند آواز سے حاضرین کو کہا کہ اگر عیسی بن مریم نے کوئی مردہ زندہ کیا ہے تو اس سے زیادہ ہرگز نہیں یعنی اسی طرح کا مُردہ زندہ ہوا ہوگا نہ کہ وہ جس کی جان آسمان پر پہنچ چکی ہو اور ملک الموت نے اس کی روح کو قرار گاہ تک پہنچادیا ہو۔نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۵۹۸ - تذکر صفحه ۳۳۹ مطبوع ۲۰۰۴ء) ایک دفعہ مجھے الہام ہوا۔رَبِّ اَرِنِى كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى رَبِّ اغْفِرُ وَارْحَمُ مِنَ السَّمَاءِ اے میرے رب ! مجھے دکھا کہ تو مردہ کیونکر زندہ کرتا ہے اور آسمان سے اپنی بخشش اور رحمت نازل فرما۔نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۶۱۳ - تذکر صفحه ۳۳۹ مطبوع ۱۲۰۰۴)