حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 284
حیات احمد ۲۸۴ جلد پنجم حصہ دوم دوران ایام دورہ مرض میں ” الْيَوْمَ يَوْمُ عِبْدِ - كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شان۔اے میرے قادر خدا!! اس پیالہ کو ٹال دے۔خدا غمگین ہے۔يُعَظِمُكَ الْمَلَائِكَةُ - خدا تعالیٰ کی وحی حضور علیہ الصلوۃ والسلام پر نازل ہوئی۔( الحکم جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۲ ءصفحہا۔تذکرہ صفحه ۳۵۶،۳۵۱ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) فرمایا۔بیماری کی شدت میں جب کہ یہ گمان ہوتا تھا کہ روح پرواز کر جائے گی مجھے بھی الہام ہوا۔اَللَّهُمَّ إِنْ أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا یعنی اے خدا اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر اس کے بعد اس زمین میں تیری پرستش کبھی نہ ہوگی۔“ ( الحکم جلد ۶ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۲ ء صفحه ۵۔تذکره صفحه ۳۵۲ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ان دنوں میں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ - إِلَّا الَّذِينَ عَلَـوُا مِنْ اِسْتِكْبَارٍ - وَأَحَافِظُكَ خَاصَّةً۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍ رَّحِیمِ یعنی میں ہر ایک انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہوگا۔مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں۔اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔“ (نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۴۰۱) ہی میں ایک اور رویا لکھتا ہوں جو طاعون کی نسبت مجھے ہوئی اور وہ یہ کہ میں نے ایک جانور دیکھا جس کا قد ہاتھی کے قد کے برابر تھا مگر منہ آدمی کے منہ سے ملتا تھا ۱۰۹ مئی ۱۹۰۲ء کو حضرت اقدس علیہ السلام کو در وصلب کا دورہ ہوا تھا اس کی طرف اشارہ ہے۔ے ترجمہ (از مرتب ) آج کا دن عید کا دن ہے۔ے ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہوتا ہے۔فرشتے تیری تعظیم کرتے ہیں۔