حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 282 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 282

حیات احمد ۲۸۲ جلد پنجم حصہ دوم میں نے اُسے بار ہا دیکھا ہے۔ایک بار میں نے اور مسیح نے ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا تھا۔“ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۱۲) ایک دفعہ ان کا لڑکا مرزا ابراہیم بیگ مرحوم بیمار ہوا تو انہوں نے میری طرف دعا کے لئے خط لکھا۔ہم نے دعا کی تو کشف میں دیکھا کہ ابراہیم ہمارے پاس بیٹھا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے بہشت سے سلام پہنچا دو۔جس کے معنے یہی دل میں ڈالے گئے کہ اب ان کی زندگی کا خاتمہ ہے۔اگر چہ دل نہیں چاہتا تھا تا ہم بہت سوچنے کے بعد میرزا محمد یوسف بیگ صاحب کو اس حادثہ سے اطلاع دی گئی اور تھوڑے دنوں کے بعد وہ جوان، غریب مزاج ہفرماں بردار بیٹا ان کی آنکھوں کے سامنے اس جہان فانی سے چل بسا۔“ (نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۶۰) ۵ رمئی ۱۹۰۲ ء رات کے تین بجے حضرت اقدس کو الہام ہوا۔إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ۔إِلَّا الَّذِينَ عَلَوْا بِاسْتَكْبَارِ یعنی میں دار کے اندر رہنے والوں کی حفاظت کروں گا۔سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے تکبر کے ساتھ علو کیا۔فرمایا: علودو ستم کا ہوتا ہے۔ایک جائز ہوتا ہےاور دوسراناجائز۔جائز کی مثال وہ علو ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام میں تھا اور نا جائز کی مثال وہ علو ہے جو فرعون میں تھا۔اور فرمایا کہ صبح کی نماز کے بعد یہ الہام ہو ” إِنِّي أَرَى المَلَائِكَةَ الشَّدًا دَ “ ترجمہ یعنی میں سخت فرشتوں کو دیکھتا ہوں جیسا کہ مثلاً ملک الموت وغیرہ ہیں۔فرمایا کہ خدا کے غضب شدید سے بغیر تقویٰ وطہارت کے کوئی نہیں بچ سکتا۔پس سب کو چاہیے کہ تقویٰ و طہارت کو اختیار کریں اور اگر کوئی فاسق اور فاجر ڈار میں داخل ے یعنی حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کو (مرتب) مرز امحمد یوسف بیگ صاحب ساکن سامانه ریاست پٹیالہ (مرتب)