حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 281
حیات احمد ۲۸۱ جلد پنجم حصہ دوم ایک عرصہ ہوا میں نے خواب دیکھا تھا کہ گویا میر ناصر نواب ایک دیوار بنا رہے ہیں جو فصیل شہر ہے میں نے اس کو جو دیکھا تو خوف آیا کیونکہ وہ قدِ آدم بنی ہوئی تھی۔خوف یہ ہوا کہ اس پر آدمی چڑھ سکتا ہے مگر جب دوسری طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ قادیان بہت اونچی کی گئی ہے اس لئے یہ دیوار دوسری طرف سے بہت اونچی ہے اور یہ دیوار گویار یختہ کی بنی ہوئی ہے۔فرش کی زمین بھی پختہ کی گئی ہے اور غور سے جو دیکھا تو وہ دیوار ہمارے گھروں کے ارد گرد ہے۔اور ارادہ ہے کہ قادیان کے گرد بھی بنائی جاوے۔شاید اللہ رحم کر کے ان بلاؤں میں تخفیف کر دے۔“ 66 الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخ ۱/۱۰ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۶۔تذکره صفحه ۳۴۸، ۳۴۹ مطبوع ۲۰۰۴ء) تُخْرَجُ الصُّدُورُ إِلَى الْقُبُورِ یہ بھی ایک الہام ہے اس الہام کے بعد نذیر حسین دہلوی اور فتح علی اور اللہ بخش تونسوی وغیرہ اس جہاں سے رخصت ہوئے۔“ (الحکم جلد ۶ نمبر ۳۹ مورخه ۳۱ /۱ اکتوبر ۱۹۰۲ صفحه ۱۰۔تذکره صفحه ۳ ۳۵ مطبوع ۲۰۰۴ء) ی۔ایک دفعہ میں خود سخت بیمار ہو گیا اور حالت ایسی بگڑی کہ بیماری سے جانبر ہو نا مشکل معلوم ہوتا تھا تب یہ الہام ہوا۔مَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمُكُثُ فِي الْأَرْضِ “۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے وعدہ کے موافق عین نا امیدی کی حالت میں شفا بخشی اور یوں تو ہزار ہا لوگ شفا پاتے ہیں مگر ایسی ناامیدی کی حالت میں سینکڑوں انسانوں میں دعوئی سے یہ پیش کرنا کہ شفا ضرور حاصل ہو جائے گی یہ انسان کا کام نہیں۔“ 66 ( نزول مسیح روحانی اختر آن جلد ۱۸ صفحه ۵۹۹) لے ( ترجمہ از مرتب ) مخالفین کے سرگر وہ قبروں کی طرف منتقل کئے جائیں گے۔