حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 280 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 280

حیات احمد ۲۸۰ جلد پنجم حصہ دوم۔رات کو عین خسوف قمر کے وقت میں چراغ دین کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا۔إِنِّي أُذِيبُ مَنْ يُرِيبُ میں فنا کر دوں گا۔میں غارت کروں گا۔میں غضب نازل کروں گا اگر اس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعوے سے تو بہ نہ کی۔اور خدا کے انصار جو سالہائے دراز سے خدمت اور نصرت میں مشغول اور دن رات صحبت میں رہتے ہیں ان سے عفو تقصیر نہ کرائی کیوں کہ اس نے جماعت کے تمام مخلصوں کی توہین کی کہ اپنے نفس کو ان سب پر مقدم کر لیا۔“ ( دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۴۴٬۲۴۳، حاشیہ نمبر۲) إِنِّي أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخه ۳۰ را پریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۷۔تذکرہ صفحہ ۳۴۸ مطبوعہ ۲۰۰۴ء) فرمایا۔آج رات کو الہام ہوا۔لَولا الأمُرُ لَهَلَكَ النَّمْرُ۔یعنی اگر سُنّت اللہ اور امر الہی اس طرح پر نہ ہوتا کہ ائمۃ الکفر اخیر میں ہلاک ہوا کریں تو اب بھی بڑے بڑے مخالف جلد تباہ ہو جاتے لیکن چونکہ بڑے مخالف جو ہوتے ہیں ان میں ایک خوبی عزم اور ہمت اور لوگوں پر حکمرانی اور اثر ڈالنے کی ہوتی ہے اس واسطے اُن کے متعلق یہ امید بھی ہوتی ہے کہ شاید لوگوں کے حالات سے عبرت پکڑ کر تو بہ کریں اور دین کی خدمت میں اپنی قوتوں کو کام میں لاویں۔“ ( الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰ را پریل ۱۹۰۲ء صفحه ۸۔تذکره صفحه ۳۴۸ مطبوع ۲۰۰۴ء) لے ( ترجمه از مرتب ) جس قدر لوگ اس گھر کے رہنے والے ہیں میں انہیں طاعون سے محفوظ رکھوں گا۔نوٹ۔۴ رمئی ۱۹۰۴ ء آج دن کو مولوی محمد علی صاحب ایم اے مینیجر وایڈیٹر رسالہ ریویو آف ریلیجنز کی طبیعت علیل ہوگئی اور دردسر اور بخار کے عوارض کو دیکھ کر مولوی صاحب کو شبہ گزرا کہ شاید طاعون کے آثار ہیں جب اس بات کی خبر حضرت اقدس کو ہوئی تو آپ فورا مولوی صاحب کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے دار میں ہو کر اگر آپ کو طاعون ہو تو پھر اِنِّى أَحَافِظُ كُلَّ مَنْ فِي الدَّارِ الہام اور یہ سب کار و بار گویا سب عبث ٹھہرا آپ نے نبض دیکھ کر ان کو یقین دلایا کہ ہرگز بخار نہیں ہے پھر تھرما میٹر لگا کر دکھایا کہ پارہ اس حد تک نہیں ہے جس سے بخار کا شبہ ہوا اور فرمایا کہ میرا تو خدا کی وحی پر ایسا ہی ایمان ہے جیسے اس کی کتابوں پر ہے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۱۸ پر چه ۸ - ۱۶مئی ۱۹۰۴ء صفحه ۴)