حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 276
حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمُ۔إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ۔یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کر لیں جو ان کے دلوں میں ہیں یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو نہ مان لیں تب تک طاعون دور نہیں ہوگی اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔تائم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔“ دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۶،۲۲۵) ہیں۔جو باتیں آج سے چار برس پہلے کہی گئی تھیں وہ پوری ہوگئیں۔۔۔اور پھر اس کے بعد ان دنوں میں بھی خدا نے مجھے خبر دی۔چنانچہ وہ عَزَّ وَ جَلَّ فرماتا ہے: مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِيْهِمْ۔إِنَّهُ أَوَى الْقَرْيَةَ لَوْ لَا الْإِكْرَامُ لَهْلَكَ الْمُقَامُ۔إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ دَافِعُ الاذى۔إِنِّى لَا يَخَافُ لَدَيَّ الْمُرْسَلُونَ۔إِنِّي حَفِيظٌ إنِّي مَعَ الرَّسُولِ اَقُوْمُ وَالُوْمُ مَنْ يَلُومُ۔أَفْطِرُ وَاَصُوْمُ۔غَضِبْتُ غَضَبًا شَدِيدًا۔اَلْأَمْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوسُ تُضَاعُ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الآمُنُ وَ هُم مُّهْتَدُونَ إِنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرافِهَا۔إِنِّي أَجَهِزُ الْجَيْشَ فَاصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ۔سَنُرِيهِمْ ا يَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ مُّبِينٌ۔إِنِّي بَايَعْتُكَ لے اویٰ عربی لفظ ہے جس کے معنے ہیں۔تباہی اور انتشار سے بچانا اور اپنی پناہ میں لے لینا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طاعون کی قسموں میں سے وہ طاعون سخت بر بادی بخش ہے جس کا نام طاعون جارف ہے۔یعنی جھاڑو دینے والی جس سے لوگ جا بجا بھاگتے ہیں اور کتوں کی طرح مرتے ہیں یہ حالت انسانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے پس اس کلام الہی میں یہ وعدہ ہے کہ یہ حالت کبھی قادیان میں وارد نہیں ہوگی۔“ دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۲۵ حاشیه)