حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 272
حیات احمد ۲۷۲ جلد پنجم حصہ دوم۔ایک رات کو مجھے اس طرح الہام ہوا کہ جیسے اخبار عن الغائب ہوتا ہے اور وہ یہ الفاظ تھے۔إِنِّي أَفِرُّمَعَ اَهْلِي إِلَيْكَ یہ الہام سب دوستوں کو سنایا گیا چنانچہ اسی دن خلیفہ نورالدین صاحب کا جموں سے خط آیا کہ اس شہر میں طاعون کا زور پڑ گیا ہے اور میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں کہ اپنے سب بال بچوں کو ساتھ لے کر قادیان چلا آؤں۔“ نزول المسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه۵۸۹- تذکره صفحه ۳۴۰ مطبوع ۲۰۰۴ء) ا لَوْلَا الْإِكْرَامُ لَهَلَكَ الْمُقَامُ - يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ احکم جلد ۶ نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۱۵- تذکره صفحه ۳۴۰ مطبوع ۲۰۰۴ء) ۶ را پریل ۱۹۰۲ء کی صبح کو فر مایا۔رات میں نے کشف میں دیکھا کہ کوئی بیمار گتا ہے۔میں اُسے دوا د ینے لگا ہوں تو میری زبان پر جاری ہوا۔اس گتے کا آخری دم ہے۔“ (احکام جلد ۱۴، نمبر ۱۹ مورخه ۲۸ مئی ۱۹۱۰ء تذکره صفحه ۲۴۱ مطبوعه ۲۰۰۴ء) ۱۰ / اپریل ۱۹۰۲ء آج پہلے وقت ہی یہ الہام ہوا۔دلم مے بلرزد چو یاد آورم مناجات شوریده اندر حرم " بقیہ حاشیہ۔ایک تقریر فرمائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عرب صاحب جو پہلے بڑے جوش سے بولتے تھے بالکل صاف ہو گئے اور انہوں نے صدق دل سے بیعت کی اور ایک اشتہار بھی شائع کیا اور بڑے جوش کے ساتھ اپنے ملک کی طرف بغرض تبلیغ چلے گئے۔“ لے (ترجمہ از مرتب ) میں اپنے اہل کے ساتھ تیری طرف دوڑتا ہوں۔سے اس سے مراد حضرت خلیفہ اسی اول نہیں ہیں بلکہ خلیفہ نور الدین صاحب ساکن جموں ہیں جو پہلے تاجر تھے۔سے ( ترجمه از مرتب ) اگر اس سلسلہ احمدیہ کا پاس اور اکرام خدا کو منظور نہ ہوتا تو یہ مقام بھی ہلاک ہو جاتا۔اس جہنم یعنی طاعون پر ایسا وقت آنے والا ہے کہ اس میں کوئی نہیں رہے گا۔( ترجمہ از مرتب) جب مجھے پریشان حال شخص کا حرم میں علیحدگی کی حالت میں دعا کرنا یاد آتا ہے تو میرا دل کانپ جاتا ہے۔