حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 17
حیات احمد ۱۷ جلد پنجم حصہ دوم حضرت ام المؤمنین کے دل میں یہ ڈالے گئے کہ عیسی کی حیات و ممات میں انسان کا دخل نہیں۔“ یہ تو رویا کا مضمون ہے۔حضرت امام ہمام علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔اس پر میں نے توجہ کی تو یہ القا ہوا کہ حقیقت میں ہزار سالہ موت کے بعد جواب احیا ہوا ہے، اس میں انسانی ہاتھ کا دخل نہیں ہے۔جیسے خدا نے مسیح کو بن باپ پیدا کیا تھا یہاں مسیح موعود کو بلا واسطہ کسی استاد یا مرشد روحانی زندگی عطا فرمائی۔استاد بھی حقیقت میں باپ ہی ہوتا ہے بلکہ حقیقی باپ استاد ہی ہوتا ہے۔افلاطون کہتا ہے کہ باپ تو روح کو زمین پر لاتا ہے اور استاد زمین سے آسمان پر پہنچا تا ہے۔غرض تو جیسے مسیح بن باپ پیدا ہوا اور اُس کی اس حیات میں کسی انسان کا دخل نہ تھا۔ویسے ہی یہاں بڑوں کسی استاد یا مر شد کے خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل اور فیض سے روحانی زندگی عطا کی۔۔پھر میں نے موت کے متعلق جب توجہ کی ، تو ذرا سی غنودگی کے بعد الہام ہوا۔فری میسن مسلط نہیں کئے جائیں گے کہ اس کو ہلاک کریں۔فری میسن کے متعلق میرے دل میں گزرا کہ جن کے ارادے مخفی ہوں۔پوڑی کے متعلق یہ تفہیم ہوئی کہ ارواح کا نزول آسمان سے ہی ہوتا ہے اور صعود بھی آسمان ہی پر ہوتا ہے۔غرض یہ کیسی لطیف بات ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس میں عظیم الشان بشارت اور پیشگوئی رکھ دی ہے۔لوگ ہمارے قتل کے ارادے کریں گے۔مگر خدا تعالیٰ ان کو ہم پر مسلط نہیں کرے گا۔“ الحکم جلد ۵ نمبر ۳۷ مورخ ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۷۔تذکر صفحہ ۳۳۵۔۳۳۶ مطبوع ۲۰۰۴ء) ”ایک دفعہ میں نے عالم کشف میں دیکھا کہ مبارک احمد جو پسر چہارم میرا ہے، چٹائی کے پاس گر پڑا ہے اور سخت چوٹ آئی ہے اور گر تہ خون سے بھر گیا ہے۔خدا کی قدرت کہ ابھی اس کشف پر شاید تین منٹ سے زیادہ نہیں گزرے ہوں گے کہ میں دالان سے باہر آیا اور مبارک احمد کہ شاید اس وقت سواد و سال کا ہو گا چٹائی کے پاس کھڑا تھا۔بچوں کی طرح کوئی حرکت کر کے پیر پھسل گیا اور زمین پر جا پڑا اور کپڑے خون سے بھر گئے اور جس طرح عالم کشف میں دیکھا تھا اسی طرح ظہور میں آ گیا۔“ ( نزول مسیح روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۹۸،۵۹۷۔تذکر صفحه ۳۳۶ مطبوع ۲۰۰۴ء)