حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 252
حیات احمد ۲۵۲ جلد پنجم حصہ دوم فونوگراف کے ذریعہ تبلیغ حق حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے فونوگراف منگوایا تھا اس وقت تو یہ عام نہ ہوا تھا اور نہ ہر شخص کو استطاعت ہی تھی کہ خرید کرے۔قادیان میں وہ ایک مجو بہ سمجھا گیا۔حضرت اقدس نے ارادہ فرمایا کہ اس میں اپنا پیغام بند کریں اور اس کے ذریعہ تشہیر و تبلیغ ہو۔جس چیز کو عوام اور خواص ذریعہ تفریح سمجھتے تھے آپ نے اس سے تبلیغ کا کام لینا چاہا آپ دنیا میں اس طرح پر تبلیغ چاہتے تھے۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس پاک خواہش کو پورا کرنے کے لئے آپ کے خدام کے ذریعہ دنیا میں تبلیغ کا راستہ کھول دیا۔غرض جب فونوگراف کی خبر عام ہوگئی اور لوگوں کو اس کے دیکھنے کا شوق پیدا ہو وہ براہ راست حضرت نواب صاحب کو عرض نہ کر سکتے تھے اگر چہ وہ ایسے وسیع القلب بزرگ تھے کہ اگر کوئی بھی عرض کرتا تو وہ اسے فونوگراف دکھا اور سنا دیتے مگر ہر کس و ناکس کو یہ جرات نہ ہوئی آخر انہوں نے لالہ شرمپت رائے کے ذریعہ حضرت کے حضور عرض کیا۔چنانچه ۲۰ / نومبر ۱۹۰۱ء کو نماز ظہر کے لئے جب حضرت اقدس تشریف لائے تو آپ نے نواب صاحب ممدوح سے لالہ شرمیت رائے کی درخواست کا ذکر فرمایا نواب صاحب نے منظور فرمالیا۔مگر اب قابل قدر اور لائق ذکر یہ بات ہے کہ حضرت اقدس نے سوچا کہ یہ لوگ تو بطور کھیل اور عجوبہ کے اس کو دیکھنا چاہتے ہیں بہتر ہو گا ہم اس سے اپنا کام لیں اور ان کو تبلیغ کریں۔چنانچہ آپ نے یہ تجویز فرمائی کہ اس میں چند شعر جو ہم تیار کر دیتے ہیں بند کئے جائیں اور ایسا ہی پرانی نظموں میں سے اور کچھ قرآن شریف۔فرمایا مولوی عبدالکریم صاحب بند کر دیں۔صاحبزادہ سراج الحق صاحب جن کی آواز اچھی ہے۔آخر مولوی عبد الکریم صاحب نے ان شعروں کو بند کیا۔کوئی ساڑھے چار ، پانچ بجے کے قریب حضرت اقدس کے بالا خانہ کے صحن میں فونوگراف رکھا گیا اور مندرجہ ذیل رقعہ لالہ شرمپت رائے کو لکھا گیا۔