حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 253
حیات احمد رقعہ ۲۵۳ جلد پنجم حصہ دوم لالہ شرمیت ! نواب صاحب کو کہہ کر فونوگراف منگوالیا ہے اب تمہاری انتظاری ہے اگر ملا وامل بھی دیکھنا چاہے وہ بھی آجاوے بلکہ اگر پانچ سات اور آدمی آنا چاہیں تو مضائقہ نہیں ہے۔66 ہر روز فرصت نہیں ملتی اس وقت فرصت نکالی ہے جلد آنا چاہیے۔(مرزا غلام احمد ) چنانچہ لالہ شرمپت رائے اور آریہ سماج کا سیکرٹری اور بہت سے لوگ ہندو اور مسلمان اس کے دیکھنے کو آئے اور لالہ شرمیت رائے کو فونوگراف کے بالکل پاس بٹھایا گیا سب سے پہلے فونوگراف میں منشی نواب خاں صاحب ثاقب مالیر کوٹلی کے لب ولہجہ سے یہ چند شعر سنائے۔اشعار بده از چشم خود آب درختان محبت را مگر روزے دہندت میو ہائے پر حلاوت را اسلام در باطن حقیقت با ہمی دارد کجا باشد خبر زان مه گرفتاران صورت را من از یار آمدم تا خلق را این ماه بنمائم امروزم نمی بینی نمی بینی به بینی روز حسرت را گر ترجمہ (۱) محبت کے درختوں کو اپنی آنکھوں کے پانی سے سیراب کر ، تا کہ ایک دن وہ تجھے شیریں پھل دیں۔(۲) اسلام کا چاند اپنے اندر بہت سی حقیقتیں رکھتا ہے۔ظاہر بینوں کو اُس چاند ( کی خوبیوں) کی کیا خبر ہوسکتی ہے۔(۳) میں اُس یار کی طرف سے آیا ہوں کہ مخلوق کو یہ چاند دکھاؤں، اگر آج تو مجھے نہیں دیکھے گا تو ایک روز حسرت کا دن دیکھے گا۔