حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 251 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 251

حیات احمد ۲۵۱ جلد پنجم حصہ دوم ان خطوط کے بعد ہم منتظر تھے کہ ندوۃ العلماء کے اکابر اس کے لئے کوئی وقت مقرر کریں گے اور حافظ محمد یوسف صاحب بڑے جوش سے اپنے دعوئی کے ثابت کرنے کے لئے پیش پیش ہوں گے مگر نہ تو ندوۃ العلماء نے کوئی جواب دیا اور نہ حافظ صاحب کہیں نظر آئے۔اصل بات تو یہ ہے کہ ندوہ تو اس جھگڑے میں آنا ہی نہیں چاہتا تھا اور حافظ صاحب نے سستی شہرت کے خیال سے ندوہ سے استصواب کئے بغیر اشتہار دے دیا۔یہ وفد نہ صرف امرتسر میں موجود رہا بلکہ ندوہ کے جلسہ میں اور علماء کی قیام گاہ پر روزانہ جا کر تبلیغ کرتا رہا اور تفتہ الندوہ اور کشتی نوح وغیرہ لٹریچر تقسیم کرتا رہا اور بعض علماء سے گفتگو بھی۔جن میں خصوصیت سے مولوی صوفی محمد سلیمان صاحب پھلواروی سے خاص گفتگو رہی جس میں مسئلہ توجہ کا بھی ذکر آیا اور ان سے کہا گیا کہ مجھے پر اپنی توجہ ڈال کر ہم خیال بناؤ مگر وہ خاموش ہو گئے۔اسی طرح پر ندوۃ العلماء نے ایک ایسی تاریخی بحث سے ( جو قرآن کریم کی پیش کردہ دلیل صداقت کے متعلق تھی اور جسے حافظ محمد یوسف نے نہایت شوخ چشمی سے رڈ کر کے قرآن کریم کی ہتک کی تھی ) گریز کر کے حضرت اقدس کی صداقت پر مہر کر دی اور حافظ اور اس کے معاونین کی سفاہت کا عملی اعلان کر دیا۔جیسا کہ حضرت اقدس کے ملفوظات میں ذکر آیا لٹریچر کی تقسیم کا یہ اثر ہوا کہ بعض محتاط علماء جلسہ کے بعد قادیان آئے اور حضرت اقدس سے بالمشافہ بعض سوالات بطور ایک طالب حق دریافت کئے انہوں نے مولویا نہ رنگ اختیار نہ کیا اور ان میں سے مکرم مولوی شرافت اللہ خاں صاحب شاہجہان پوری کو اللہ تعالیٰ نے داخل بیعت ہونے کی سعادت بخشی۔اس جلسہ ندوۃ العلماء میں جو کام تبلیغ واشاعت کا ہوا اس کی تفصیل الحکم میں شائع ہو چکی ہے۔غرض قطع الوتین کے فتنہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح نمایاں بخشی۔