حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 244 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 244

حیات احمد ۲۴۴ جلد پنجم حصہ دوم پر لاوے کہ فلاں بات جو قرآن میں ہے وہ خلاف واقعہ ہے۔یا فلاں دلیل قرآن کی باطل ہے بلکہ جس امر میں قرآن اور رسول کریم ﷺ پر زد پڑتی ہو ایماندار کا کام نہیں کہ اس پلید پہلو کو اختیار کرے اور حافظ صاحب کی نوبت اس درجہ تک محض اس لئے پہنچ گئی کہ انہوں نے اپنے چند قدیم رفیقوں کی رفاقت کی وجہ سے میرے منجانب اللہ ہونے کے دعوئی کا انکار مناسب سمجھا اور چونکہ دروغ گو کو خدا تعالیٰ اسی جہان میں ملزم اور شرمسار کر دیتا ہے اس لئے حافظ صاحب بھی اور منکروں کی طرح خدا کے الزام کے نیچے آ گئے اور ایسا اتفاق ہوا کہ ایک مجلس میں جس کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں میری جماعت کے بعض لوگوں نے حافظ صاحب کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ایک شمشیر برہنہ کی طرح یہ حکم فرماتا ہے کہ یہ نبی اگر میرے پر جھوٹ بولتا اور کسی بات میں افترا کرتا تو میں اس کی رگ جان کاٹ دیتا اور اس مدت دراز تک وہ زندہ نہ رہ سکتا۔تو اب جب ہم اپنے اس مسیح موعود کو اس پیمانہ سے ناپتے ہیں تو براہین احمدیہ کے دیکھنے سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دعویٰ منجانب اللہ ہونے اور مکالمات الہیہ کا قریبا تمیں برس سے ہے اور اکیس برس سے براہین احمدیہ شائع ہے۔پھر اگر اس مدت تک اس مسیح کا ہلاکت سے امن میں رہنا اس کے صادق ہونے پر دلیل نہیں ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کا تئیس برس تک موت سے بچنا آپ کے سچا ہونے پر بھی دلیل نہیں ہے کیونکہ جب کہ خدا تعالیٰ نے اس جگہ ایک جھوٹے مدعی رسالت کو تیس برس تک مہلت دی اور وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَالے کے وعدہ کا کچھ خیال نہ کیا تو اسی طرح نعوذ باللہ یہ بھی قریب قیاس ہے کہ آنحضرت ﷺ کو بھی باوجود کاذب ہونے کے مہلت دے دی ہو مگر آنحضرت ﷺ کا کاذب ہونا محال ہے۔پس جوستلزم صلى الله محال ہو وہ بھی محال۔اور ظاہر ہے کہ یہ قرآنی استدلال بدیہی الظہور جبھی ٹھہر سکتا ہے الحاقة: ۴۵