حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 245
حیات احمد ۲۴۵ جلد پنجم حصہ دوم جب کہ یہ قاعدہ کلی مانا جائے کہ خدا اس مفتری کو جو خلقت کے گمراہ کرنے کے لئے مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہو کبھی مہلت نہیں دیتا کیوں کہ اس طرح پر اس کی بادشاہت میں گڑ بڑ پڑ جاتا ہے اور صادق اور کاذب میں تمیز اُٹھ جاتی ہے۔غرض جب میرے دعوی کی تائید میں یہ دلیل پیش کی گئی تو حافظ صاحب نے اس دلیل سے سخت انکار کر کے اس بات پر زور دیا کہ کاذب کا تئیس برس تک یا اس سے زیادہ زندہ رہنا جائز ہے اور کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ ایسے کا ذبوں کی میں نظیر پیش کروں گا جو رسالت کا جھوٹا دعوی کر کے تئیس برس تک یا اس سے زیادہ رہے ہوں مگر اب تک کوئی نظیر پیش نہیں کی اور جن لوگوں کو اسلام کی کتابوں پر نظر ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ آج تک علماء امت میں سے کسی نے یہ اعتقاد ظاہر نہیں کیا کہ کوئی مفتری علی اللہ آنحضرت ﷺ کی الله طرح تنمیس برس تک زندہ رہ سکتا ہے بلکہ یہ تو صریح آنحضرت ﷺ کی عزت پر حملہ اور کمال بے ادبی ہے اور خدا تعالیٰ کی پیش کردہ دلیل سے استخفاف ہے۔ہاں اُن کا یہ حق تھا کہ مجھ سے اس کا ثبوت مانگتے کہ میرے دعوی مامور من اللہ ہونے کی مدت تئیس برس یا اُس سے زیادہ اب تک ہو چکی ہے یا نہیں۔مگر حافظ صاحب نے مجھ سے یہ ثبوت نہیں مانگا کیونکہ حافظ صاحب بلکہ تمام علماء اسلام اور ہندو اور عیسائی اس بات کو جانتے ہیں کہ براہین احمدیہ جس میں یہ دعویٰ ہے اور جس میں بہت سے مکالماتِ الہیہ درج ہیں اس کے شائع ہونے پر اکیس برس گزر چکے ہیں اور اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریباً تمیں برس سے یہ دعویٰ مکالمات الہیہ شائع کیا گیا ہے۔“ (ضمیمہ تحفہ گولڑوی روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۳۸ تا ۴۳) چونکہ حافظ صاحب کے ادعا سے قرآن کریم اور حضرت نبی کریم پر حملہ ہوتا تھا آپ نے ایک زبر دست مطالبہ علماء اور مشائخ ہند سے کیا اور نہایت درد ناک الفاظ میں آپ نے منکرین کے اس رویہ پر اظہار درد فرمایا۔