حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 239 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 239

حیات احمد ایک سنت اللہ ۲۳۹ ۱۹۰۲ ء اور جنگ احزاب جلد پنجم حصہ دوم مرسلین اور مامورین ربانی کی زندگی عجائبات کا مجموعہ ہوتی ہے اور یہ سنت اللہ ہے کہ جب کوئی مامور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہو تو مختلف عقیدہ اور خیال کے اس کی مخالفت پر کھڑے ہو جاتے ہیں باوجود اس کے کہ وہ کوئی ایسی تعلیم پیش نہیں کرتا جو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے نہ ہو نہ صرف یہ بلکہ وہ قوم ( جن میں وہ مبعوث ہوتے ہیں ) انہیں اپنی فلاح کے لئے بعثت سے پہلے امید گاہ یقین کرتے ہیں اور اس کی زندگی پاکیزہ کا انہیں اعتراف ہوتا ہے لیکن اس آواز کے سنتے ہی کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں ہر قسم کے ہتھیار لے کر مخالفت پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود کے ساتھ بھی یہی ہوا اور مخالفت کا طوفان اپنی پوری شدت سے برپا ہو گیا۔ہر طبقہ کے لوگوں نے اس میدان میں فردا فرد مل کر اور مخالفت کی جنگ میں حصہ لیا مگر آپ کے قدم کو جنبش نہ ہوئی اس کا ہر دن پہلے سے ترقی کا دن ہوا۔۱۹۰۲ء تو خصوصیت سے خطرناک جنگ کا سال ہوا اور مختلف قسم کے ہتھیاروں سے چاہا گیا کہ آپ کے سلسلہ کو ختم کر دیا جاوے۔حافظ محمد یوسف امرتسری کا چیلنج اور اس کا انجام یہ ساری کوششیں ہمیشہ ناکام ثابت ہوئیں اور وہ جو سلسلہ کو مٹانے میں اپنی انتہائی کوششیں کرتے رہے وہ خود مٹتے رہے اور سلسلہ ترقی کرتا رہا اسی سلسلہ میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا جس کے ذریعہ ندوۃ العلماء پر بھی اتمام حجت ہو گیا اس کی مختصر روائیداد یہ ہے۔حافظ محمد یوسف امرتسر جس کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے وہ ابتداء سلسلہ کے مؤید اور حضرت اقدس سے اخلاص و ارادت کا اظہار کرتے تھے اور یہ الہی بخش کی پارٹی کے بڑے رکن تھے یہ سب لوگ