حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 238
حیات احمد ۲۳۸ جلد پنجم حصہ دوم دراصل برابر بین بائیس برس سے شہرت پا رہی ہے ظہور میں نہ آیا تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں میرے منجانب اللہ ہونے کا یہ نشان ہو گا کہ میرے گھر کے چار دیوار کے ندر رہنے والے مخلص لوگ اس بیماری کی موت سے محفوظ رہیں گے اور میرا تمام سلسلہ نسبتا ومقابلۂ طاعون کے حملہ سے بچارہے گا اور وہ سلامتی جوان میں پائی جائے گی اس کی نظیر کسی گروہ میں قائم نہیں ہوگی اور قادیان میں طاعون کی خوفناک آفت جو تباہ کر دے نہیں آئے گی۔الا کم اور شاذ و نادر۔کاش اگر یہ لوگ دلوں کے سیدھے ہوتے اور خدا سے ڈرتے تو بالکل بچائے جاتے۔“ (کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱ تا ۵) اگر چہ آپ نے گورنمنٹ کی تدبیر حفظ صحت کی طرف لوگوں کو توجہ دلائی کہ رعایت اسباب ضروری ہے اور اپنی جماعت کو گورنمنٹ کے تجویز کردہ ٹیکہ سے روک دیا تا کہ امتیاز قائم ہو اور جس نشان کے ظہور کا آپ نے اعلان فرمایا وہ نمایاں ہو جائے جو ٹیکہ حکومت نے لازم کیا تھا۔ملکوال ضلع گجرات میں وہ مہلک ثابت ہوا اور اس طرح پر خود حکومت اس تجویز کو واپس لینے پر مجبور ہوگئی اس لئے کہ عوام میں بدظنی پیدا ہوگئی اور اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے آسمانی ٹیکہ کی برکات نمایاں کردیں۔