حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 237 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 237

حیات احمد ۲۳۷ جلد پنجم حصہ دوم جائے تو وہ خوشی سے اس کو قبول کرے گی۔اس صورت میں ظاہر ہے کہ یہ طریق جس پر خدا نے مجھے چلایا ہے اس گورنمنٹ عالیہ کے مقاصد کے برخلاف نہیں ہے اور آج سے بین برس پہلے اس بلائے عظیم طاعون کی نسبت میری کتاب براہین احمدیہ میں بطور پیش گوئی یہ خبر موجود ہے اور اس سلسلہ کے لئے خاص برکات کا وعدہ بھی موجود ہے۔دیکھو براہین احمدیہ صفحہ ۵۱۸ وصفحہ ۵۱۹۔پھر ماسوا اس کے یہ بڑے زور سے خدا تعالیٰ کی طرف سے پیشگوئی ہے کہ خدا میرے گھر کے احاطہ کے اندر مخلص لوگوں کو جو خدا کے سامنے اور اس کے مامور کے سامنے تکبر نہیں کرتے بلائے طاعون سے نجات دے گا اور نسبتاً و مقابلہ اس سلسلہ پر اُس کا خاص فضل رہے گا گو کسی کی ایمانی قوت کے ضعف یا نقصان عمل یا اجل مقدر یا کسی اور وجہ سے جو خدا کے علم میں ہو کوئی شاذ و نادر کے طور پر اس جماعت میں بھی کیس ہو جائے سو شاذ و نادر حکم معدوم کا رکھتا ہے۔ہمیشہ مقابلہ کے وقت کثرت دیکھی جاتی ہے۔جیسا کہ گورنمنٹ نے خود تجربہ کر کے معلوم کر لیا ہے کہ ٹیکا طاعون کا لگانے والے بہ نسبت دوسروں کے بہت ہی کم مرتے ہیں۔پس جیسا کہ شاذ و نادر کی موت ٹیکا کے قدر کو کم نہیں کر سکتی اسی طرح اس نشان میں اگر مقابلہ بہت ہی کم درجہ پر قادیان میں طاعون کی وارداتیں ہوں یا شاذ و نادر کے طور پر اس جماعت میں سے کوئی شخص اس مرض سے گزر جائے تو اس نشان کا مرتبہ کم نہیں ہوگا وہ الفاظ جو خدا کی پاک کلام سے ظاہر ہوتے ہیں ان کی پابندی سے یہ پیشگوئی لکھی گئی ہے۔عقل مند کا کام نہیں ہے کہ پہلے سے آسمانی باتوں پر جنسی کرے یہ خدا کا کلام ہے نہ کسی منجم کی باتیں۔یہ روشنی کی چشم سے ہے نہ تاریکی کی انکل سے یہ اس کا کلام ہے جس نے طاعون نازل کی اور جو اُس کو دور کر سکتا ہے۔ہماری گورنمنٹ بلا شبہ اُس وقت اس پیشگوئی کا قدر کرے گی جب کہ دیکھے گی کہ یہ حیرت انگیز کیا کام ہوا کہ ٹیکا لگانے والوں کی نسبت یہ لوگ عافیت اور صحت میں رہے اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اس پیشگوئی کے مطابق کہ