حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 236
حیات احمد ۲۳۶ جلد پنجم حصہ دوم حفاظت کرتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اہل حق کا کارخانہ درہم برہم ہو جاتا اور کوئی اُن کو شناخت نہ کر سکتا۔اُس کی قدرتیں بے انتہا ہیں مگر بقدر یقین لوگوں پر ظاہر ہوتی ہیں جن کو یقین اور محبت اور اس کی طرف انقطاع عطا کیا گیا ہے اور نفسانی عادتوں سے باہر کئے گئے ہیں انہیں کے لئے خارق عادت قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں۔خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے مگر خارق عادت قدرتوں کے دکھلانے کا انہیں کے لئے ارادہ کرتا ہے جو خدا کے لئے اپنی عادتوں کو پھاڑتے ہیں۔اس زمانہ میں ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں جو اس کو جانتے ہیں اور اس کی عجائب قدرتوں پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ ایسے لوگ بہت ہیں جن کو ہرگز اس قادر خدا پر ایمان نہیں جس کی آواز کو ہر ایک چیز سنتی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔اس جگہ یادر ہے کہ اگر چہ طاعون وغیرہ امراض میں علاج کرنا گناہ نہیں ہے بلکہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ کوئی ایسی مرض نہیں جس کے لئے خدا نے دوا پیدا نہیں کی۔لیکن میں اس بات کو معصیت جانتا ہوں کہ خدا کے اس نشان کو ٹیکا کے ذریعہ سے مشتبہ کر دوں جس نشان کو وہ ہمارے لئے زمین پر صفائی سے ظاہر کرنا چاہتا ہے اور میں اس کے کچے نشان اور سچے وعدہ کی ہتک عزت کر کے ٹیکا کی طرف رجوع کرنا نہیں چاہتا اور اگر میں ایسا کروں تو یہ گناہ میرا قابل مواخذہ ہوگا کہ میں خدا کے اس وعدہ پر ایمان نہ لایا جو مجھ سے کیا گیا اور اگر ایسا ہوتو پھر تو مجھے شکر گزار اس طبیب کا ہونا چاہیے جس نے یہ نسخہ ٹیکا کا نکالا نہ خدا کا شکر گزار جس نے مجھے وعدہ دیا کہ ہر یک جو اس چار دیوار کے اندر ہے میں اسے بچاؤں گا۔میں بصیرت کی راہ سے کہتا ہوں کہ اُس قادر خدا کے وعدے بچے ہیں اور میں آنے والے دنوں کو ایسا دیکھتا ہوں کہ گویا وہ آچکے ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ کا اصل مقصد یہ ہے کہ کسی طرح طاعون سے لوگ نجات پاویں اور اگر گورنمنٹ کو آئندہ کسی وقت طاعون سے نجات پانے کے لئے ٹیکہ سے بہتر کوئی تدبیرمل