حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 233 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 233

حیات احمد ۲۳۳ جلد پنجم حصہ دوم واقعات میں ضمناً تحدیث بالنعمة کے طور پر لکھا گیا اور پھر الْحَمْدُ لِلہ کہتا ہوں۔طبی ٹیکا اور آسمانی ٹیکا طاعون جب شدت سے پھیل رہا تھا اور کثرت اموات سے بعض خاندان ختم اور بعض دیہات غیر آباد ہو رہے تھے تو حکومت نے اس کے لئے ایک ٹیکا تجویز کیا۔اسی اثناء میں حضرت اقدس نے اللہ تعالیٰ کی وحی کے تحت آسانی ٹیکا تجویز کیا اور کشتی نوح نامی رسالہ میں اس کی اشاعت فرمائی آپ نے حکومت کے ایجاد کردہ ٹیکہ کی طرف تو عوام کو توجہ دلائی مگر اپنی جماعت کو شروع ہی میں اس حقیقی اور نا قابل خطا علاج کی طرف متوجہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر کھولا۔اس میں رعایت اسباب کے لحاظ سے تریاق الہی وغیرہ ادویات بھی الہامی طور پر بتائی گئیں اور تیار ہوئیں۔مگر اصل علاج تزکیہ نفس اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی کامل فرمانبرداری تھی اس لئے آپ نے حکومت کے پیش کردہ ٹیکہ کی طرف عوام کو تو توجہ دلائی۔مگر اپنی جماعت کو روک دیا اور اس مصیبت کا جو اہلِ جہاں پر بصورت عذاب نازل تھی اس طرح پر اظہار فرمایا۔جهان را دل ازیں طاعون دو نیم ست نہ ایں طاعون کہ طوفان عظیم بیا بشتاب سوئے کشتی ما کہ ایس کشتی ازاں رب علیم ست ( ٹائکیل پہنچ کشتی نوح) الغرض کشتی نوح بجائے خود ایک عجیب و غریب آسمانی ٹیکہ ہے آپ نے فرمایا۔د شکر کا مقام ہے کہ گورنمنٹ عالیہ انگریزی نے اپنی رعایا پر رحم کر کے دوبارہ طاعون سے بچانے کے لئے ٹیکا کی تجویز کی اور بندگان خدا کی بہبودی کے لئے کئی لاکھ ترجمہ۔(۱) دنیا کا دل اس طاعون کی وجہ سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا یہ طاعون نہیں بلکہ طوفانِ عظیم ہے۔(۲) جلدی سے ہماری کشتی کی طرف آجا۔کہ یہ کشتی خدائے علیم کی طرف سے ہے۔-