حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 232 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 232

حیات احمد ۲۳۲ جلد پنجم حصہ دوم یہ توسیع مکان ہر رنگ میں ایک نشان ہے اور حضرت اقدس کو کشفی رنگ میں یہ توسیع دکھائی گئی تھی اس سلسلہ میں ایک اور واقعہ بھی بیان کرنا چاہتا ہوں اور میرا مقصد اس سے بھی تحدیث بالنعمة ہے مہمانوں کی کثرت اور خاندان کی نسلی ترقی مکانات کی ضرورت کی ہمیشہ داعی رہی اس کے بعد مکانات میں پھر تنگی محسوس ہوئی تو حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کا خاندانی جائداد سکنی پر قبضہ تھا۔حضرت اقدس کو تو کبھی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہی سلسلہ کی تاسیس کے لئے مامور فرمایا اور مہمانوں کے ہر حصہ ملک سے آنے کی بشارت دی تو جہاں اور جب کوئی مکان تعمیر ہوتا اسی قدر آبادی بڑھ جاتی اور پھر تنگی محسوس ہونے لگتی اب حضرت کو خیال ہوا کہ مکانات جو مرزا سلطان احمد صاحب کے قبضہ میں ہیں ان کی تقسیم ہو جاوے اس غرض کے لئے آپ نے مرزا خدا بخش مرحوم کو جوان ایام میں بڑے مدبر سمجھے جاتے تھے ) مقرر کیا کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب سے گفتگو کر کے تقسیم کرائیں مگر ان کو ناکامی ہوئی اس کی وجہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کا انکار نہ تھا مگر مرزا خدا بخش صاحب نے طریق گفتگو اس انداز سے کیا کہ گویا وہ مرزا صاحب کو دھونس دیتے ہیں۔مرزا سلطان احمد صاحب جس خاندان کے فرد تھے وہ کسی مرحلہ پر کسی فرد یا قوم سے مرعوب نہ ہوا اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے رُعب اور شوکت کو قائم رکھا۔جب وہ حکومت کرتا تھا تو بھی اور جب حکومت نہ رہی تو بھی یہی رعب باقی رہا اور اس خاندان نے کبھی اس کو برداشت نہ کیا۔غرض وہ اپنے طریق گفتگو کی وجہ سے ناکام رہے۔پھر حضرت حکیم فضل الدین صاحب کو جو بڑے مخلص اور معاملہ فہم اور جان شار تھے مقرر فرمایا مگر انہیں بھی انداز گفتگو کی وجہ سے ناکامی ہوئی۔آخر حضرت اقدس نے اس ناچیز (عرفانی) کے سپر د خدمت کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل سے نواز دیا اور مکانات کا ایک بڑا حصہ مل گیا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی ذَالِكَ نہ صرف یہ بلکہ توسیع مسجد مبارک اور مسجد اقصی کے لئے اراضیات کے حصول کا اس نے ذریعہ بنا دیا بالآخر اس نے دارالعلوم کی اراضیات کا حصول بھی اسی کے ہاتھ سے کرایا اور مرزا افضل بیگ مرحوم نے اس سودے میں چار گھماؤں اراضی پیش کی اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو کھول دیا اور وہ اراضی میں نے مدرسہ کے نام ھبہ کرا دی یہ