حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 219 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 219

حیات احمد ۲۱۹ جلد پنجم حصہ دوم میں مبتلا ہو کر مر گئے اور آخرم را پریل ۱۹۰۶ ء کو لڑکوں کی موت سے دو تین روز بعد طاعون میں مبتلا ہو کر اس جہان کو چھوڑ گیا اور لوگوں پر ظاہر کر گیا کہ صادق کون ہے اور کاذب کون۔جو لوگ اس وقت حاضر تھے ان کی زبانی سنا گیا ہے کہ وہ اپنی موت کے قریب کہتا تھا کہ اب خدا بھی میرا دشمن ہو گیا ہے چونکہ اس کی وہ کتاب چھپ گئی ہے جس میں وہ مباہلہ ہے اس لئے ہم ان لوگوں کے لئے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں وہ مباہلہ کی دعا ذیل میں لکھتے ہیں اور یہ محض اس غرض سے ہے کہ اگر اس نشان سے ایک شخص بھی ہدایت پاوے تب بھی انشاء اللہ القدیر ہمیں ثواب ہو گا اور چونکہ چراغ دین کے اصل مسودہ مباہلہ پر جو اس کی قلم سے لکھا ہوا ہے کا تب کو تاکید کی گئی ہے کہ یہ مباہلہ کی دعا جلی قلم سے لکھی جاوے اس لئے اگر چہ ہم اس کی دوسری باتوں کے مخالف ہیں تاہم اس کی اس درخواست کو منظور کر کے مباہلہ کی دعا جلی قلم سے لکھوا دیتے ہیں کیوں کہ وہ وصیت صرف ایک دن موت سے پہلے کی گئی ہے پس کیا مضائقہ ہے کہ ہم اس کی وصیت کو مان لیں اور وہ مباہلہ کی دعا یہ ہے۔الدُّعَاء اے میرے خدا اے میرے خدا میں صدق دل سے گواہی دیتا ہوں کہ آسمان و زمین اور مَا سِوَاهُمَا کا تو ہی اکیلا خالق اور مالک اور رازق ہے اور آسمان وزمین مَا سِوَاهُمَا کے ہر ایک ذرہ پر تیرا ہی حکم جاری اور نافذ ہے اور تو سب کا ابتدا اور انتہا ظاہر اور باطن جانتا اور سب کی آواز سنتا اور ان کی حاجتیں بر لاتا اور آسمان وزمین کے درمیان تیرے حکم کے بغیر ایک ذرہ بھی ٹل نہیں سکتا اور انبیا اور اولیا، شاہ اور گدا ،ملائک اور شیاطین بلکہ جمیع موجودات تیری ہی مخلوق اور محتاج ہے جو تیری رحمت کے امیدوار اور تیرے غضب سے لرزاں ہیں اور تو ہی اکیلا اس تمام ارضی اور سماوی ظاہری اور باطنی