حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 220 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 220

حیات احمد جلد پنجم حصہ دوم روحانی اور جسمانی مخلوق کا خالق، مالک اور معبود ہے اور تیرے سوا آسمان اور زمین مَا سِوَاهُمَا کے درمیان عبادت اور توکل یا محبت کے لائق اور کوئی معبود نہیں اور جس قدر معبود لوگوں نے ٹھہرائے ہوئے ہیں خواہ وہ بُت ہیں یا روح یا فرشتے یا شیاطین یا آسمانی اجرام یا زمینی اجسام وہ سب باطل ہیں اور تیری ہی مخلوق اور محتاج ہیں ان میں سے ایک بھی پرستش اور توکل اور محبت کے لائق نہیں بلکہ آسمان اور زمین اور مَا سِوَاهُمَا کے درمیان عبادت اور توکل اور محبت کے لائق تو ہی ایک خدا ہے جو ازلی ابدی زندہ خدا ہے۔تیرا نہ کوئی باپ ہے نہ بیٹا اور نہ کوئی جو رو ہے نہ مصاحب اور نہ کوئی مشیر ہے نہ معاون بلکہ تو اکیلا ہی سب کا خالق مالک اور غالب خدا ہے جو تمام خوبیوں کا منبع اور جمیع عیوب سے منزہ ہے اس لئے تمام محامد تقدیس اور ستائش اور تعریف کے لائق تو ہی ایک خدا ہے اور ہماری یہ جسمانی اور روحانی یا ظاہری اور باطنی تمام نعمتیں تیری ہی طرف سے ہیں اور ہم تیرے ہی لئے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سب پیغمبر اور جملہ کتب سماویہ بالعموم اور تیرا سچا اور پیارا حبیب خاتم النبیین محمد رسول اللہ صلحم اور تیری پاک کلام قرآن شریف و فرقان حمید بالخصوص حق ہے اور نجات اسلام میں محدود۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ قیامت اور جزا سزا حساب اور میزان دوزخ اور بہشت لقا وغیرہ سب حق اور درست ہیں اور ہم سب مرنے کے بعد جی اٹھیں گے اور اپنے ہی اعمال کے مطابق جزا اور سزا دیئے جائیں گے۔اب اے میرے خدا میں تیری بارگاہ تقدس و تعالیٰ میں نہایت عجز اور انکسار، تضرع و ابتہال کے ساتھ مودبانہ التماس کرتا ہوں کہ تو جانتا ہے کہ میں وہی شخص ہوں جس کو تو نے بلا کسی استحقاق محض اپنے ہی فضل و کرم سے اپنی مشیت اور ارادہ کے مطابق جو ازل ہی سے مقرر کیا گیا تھا اپنے مقدس اور بچے دین اسلام کی خدمت اور نصرت کے لئے اہل دنیا میں سے چن لیا اور اس کام کے واسطے مخصوص کیا ہے اور تو نے ہی میرے ہاتھ