حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم)

by Other Authors

Page 217 of 364

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 217

حیات احمد ۲۱۷ جلد پنجم حصہ دوم منارة المسح اور جمونی افسوس ہے وہ اس تو بہ پر قائم ندرہ سکا اور پھر اس کے نفس امارہ نے اسے ابھارا اور اب وہ بڑے خطرناک دعاوی کے ساتھ تو بہ کوتو ڑ کر اپنے لئے سامان ہلاکت پیدا کیا اس مرتبہ منارة امسیح کے نام سے اس نے ایک کتاب لکھی جس میں حضرت اقدس کے خلاف نہایت توہین آمیز الفاظ لکھے حضرت اقدس نے اس کی طرف توجہ نہ فرمائی اس لئے کہ آپ کی فطرت میں تو یہ تھا کہ ے گالیاں سن کر دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے اس پر ایک سال گزر گیا اور چراغ دین اپنی گندہ دہنی میں ترقی کرتا گیا یہاں تک کہ پھر اس نے ایک رسالہ مباہلہ کے رنگ میں شائع کیا اور اس میں حضرت اقدس کے مقابلہ میں مباہلہ کی دعا شائع کی۔حضرت مسیح موعود نے حقیقۃ الوحی صفحه ۳۷۲ سے ۳۷۸ تک اس کی تفصیل خود فرمائی اور اسے میں یہاں درج کرتا ہوں۔چراغ دین ساکن جموں جب میری بیعت سے مرتد ہو کر مخالفوں میں جاملا تو اس نے صرف گالیوں پر بس نہ کی بلکہ اپنے الہام اور وحی کا بھی دعویٰ کیا اور عام طور پر لوگوں میں شائع کیا کہ خدا تعالیٰ کی وحی سے مجھے الہام ہوا ہے کہ یہ شخص یعنی یہ عاجز دجال ہے تب میں نے اپنی کتاب دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء کے صفحہ ۲۳ کے حاشیہ پر وہ الہام شائع کیا جو چراغ دین کی نسبت مجھ کو ہوا اور وہ یہ ہے إِنِّي أُذِيبُ مَنْ يريبُ اور اردو میں اس کی نسبت یہ الہام ہوا میں فنا کر دوں گا میں غارت کر دوں گا۔میں غضب نازل کروں گا اگر اس نے یعنی چراغ دین نے شک کیا اور اس پر یعنی میرے مسیح موعود ہونے پر ایمان نہ لایا اور مامور من اللہ ہونے کے دعویٰ سے توبہ نہ کی