حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 199
حیات احمد ۱۹۹ جلد پنجم حصہ دوم امن و صلح کاری دنیا میں قائم ہوگی اور قوم سے قوم اور بادشاہ سے بادشاہ لڑائی کریں گے۔مذہبی مخالفتیں تمام دنیا سے اٹھ جائیں گی اور اہل دنیا ایک ہی طریق و دین میں ہو کر صلح و صلاحیت کا کامل نمونہ ظاہر کریں گے اور قومیں جسمانی اور روحانی نعمتوں سے مالا مال ہو کر نہایت امن و چین کی حالت میں اپنی زندگی بسر کریں گی اور تمام جنگ و جدال فتن و فساد بغض و عداوت کفر و معصیت رنج و مصائب دنیا بقیہ حاشیہ۔حضرت اقدس کے مخلص خدام کا جلسہ منعقد ہو رہا ہے اور اس عاجز کو اس خدمت پر مامور کیا گیا کہ میں لوگوں کو حضرت اقدس مسیح کی بیعت کے لئے بلند آواز سے پکاروں اور جو آئے اس کو حضور پر نور کی خدمت میں حاضر کروں اب ایک سال کا ذکر ہے کہ میں نے ایک رویا صالحہ میں دیکھا کہ مغرب کی طرف سے ایک روشنی آئی جس کا طولان کوسوں تک اور اونچان آسمان سے ملا ہوا تھا اور وہ روشنی سیدھی میری طرف آئی اور جس قدرنزدیک آتی تھی کم ہوتی جاتی تھی یہاں تک کہ جب میرے نزدیک پہنچی تو میں نے بجائے روشنی کے صرف واحد شخص کو دیکھا جس کے دونوں ہاتھوں میں نعلین کی صورت پر دو اشیاء پکڑی ہوئی تھیں اور جب ان کو ہلاتا تھا تو وہ روشنی ان کے اندر سے نکلتی تھی چنانچہ اس شخص نے میرے قریب آ کر نہایت جذبہ کے ساتھ پکارا کہ بیماروں کو حاضر کرو اس کے کہنے پر میں سرنگوں ہو گیا اور اس نے اس چیز کے ساتھ جو اس کے ہاتھ میں تھی میرے سر کو مسح کیا اور میں دیکھتا ہوں کہ میرے گلے میں قیدیوں کی طرح لوہے کی ایک ہیکل پڑی ہے جس کو میں اپنے دونوں ہاتھوں سے کھول رہا ہوں چنانچہ اس کے چند روز بعد پھر پہلے کی طرح کشفی حالت مجھ پر طاری ہوئی اور ایک ایسا سرور میرے دل پر طاری ہوا کہ گویا میں بادشاہ ہوں۔چنانچہ اس سرور اور تموج کی حالت میں ایک روز کشفی طور پر میں خدا کے حضور پہنچایا گیا اور اس وقت مسیحی تعلیم یعنی انجیل کی حقیقت مجھ پر کھولی گئی اور مسیحیوں کی غلط فہمی پر آگاہ کیا گیا اور اس کے ساتھ یہ بات بھی ظاہر کی گئی کہ گویا اب مسیح موعود ( یعنی اس امت کا مسیح) اپنے جلالی نزول میں نازل ہونے پر ہے اور اس عاجز کو اس نزول کی منادی کرنے اور قوموں کو اُس کی بادشاہت میں شامل کرنے کی خوشخبری دینے کے لئے مامور فرمایا پھر اس کے چند روز کے بعد ایک رویا صالحہ میں مجھے دکھایا گیا کہ آسمان سے نصف چاند کی صورت پر نورانی اجرام تیرتے ہوئے نازل ہورہے ہیں اور میں اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر حضرت امام الزمان کے لئے ان کو پکڑ رہا ہوں چنانچہ اسی رؤیا کے سلسلہ میں پھر کیا دیکھتا ہوں کہ ایک مقام پر یورپیوں کے لئے بہت سے مکانات تیار ہورہے ہیں اور ان کی ایک طرف ایک بزرگ یعنی حضرت اقدس تشریف رکھتے ہیں اور آپ کے گردا گرد ایک پردہ کھڑا ہے جس کے سبب حضرت موصوف باہر کی طرف سے دکھائی نہیں دیتے اور اس پردے کے اندر سے بڑے زور کے ساتھ ان لوگوں کو جو تعمیر کے کام میں مصروف ہیں ڈانٹ رہے ہیں کہ جلدی کرو اگر کل تک یہ کام تیار نہ ہوگا تو تمہارا ٹھیکہ نسخ کیا جائے گا۔