حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 198
حیات احمد ۱۹۸ جلد پنجم حصہ دوم که یه زمانه روحانی قیامت یعنی صلح و صلاحیت کے زمانہ کا مقدمہ اور آغاز ہے جس کو اہل اسلام کے محاورہ میں فتح اسلام اور مسیحیوں کے نزدیک مسیح کے جلالی نزول اور اس کی بادشاہت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور وہ ایسا زمانہ ہے کہ جس میں شیطانی تسلط اور دجالی فتنت دنیا سے اٹھائی جائے گی اور زمین روز روشن کی طرح خدا کے جلال کی معرفت سے معمور ہوگی اور حقیقی خدا پرستی ابدی راست بازی بقیہ حاشیہ۔اور مشہود سے مراد حضرت امام الزمان مسیح موعود ہیں اور شاہد وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے جناب مدوح کی صداقت پر گواہی دیں گے۔اس لئے میں اپنے سچے دل سے خدا تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر یہ گواہی دیتا ہوں کہ بلاشک وشبہ حضرت اقدس مرزا صاحب خدا تعالیٰ کی طرف سے اس زمانہ کے لئے بحیثیت ماموریت منصب امامت پر مشرف ہیں اور جناب کی اطاعت خدا کی خوشنودی کا سبب اور مخالفت اس کے قہر و غضب کا موجب ہے لہذا دنیا کے زیادہ اطمینان کے لئے میں اپنے بعض رؤیا اور کشوف کو بھی اختصار کے ساتھ تحریر کر دینا مناسب سمجھتا ہوں۔پس واضح رائے ناظرین ہو کہ عرصہ قریباً ۱۲ سال کا گزرا ہوگا کہ ایک رویا صالحہ میں اس عاجز نے دیکھا کہ ایک نورستون کی صورت پر آیا اور اس نے مجھے اپنے اندر ڈھانپ لیا اور میری حالت کو بدل ڈالا اور کلمہ توحید میری زبان پر جاری کر دیا۔چنانچہ اس کے بعد ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ تک میں اللہ تعالیٰ کو مشاہدہ میں دیکھتا رہا اور جب وہ حالت کم ہونے لگی تو ایک رات میں نے رویا کی حالت میں خدا تعالیٰ کو دیکھا اور میں اس میں بالکل محو اور وصل ہو گیا۔اور تمام روز اس کی لذت اور سرور میرے دل پر موجود رہا اور پھر بعد اس کے آج سے قریباً سات سال پہلے ایک رویا صالحہ میں اس عاجز نے ایک کثیر التعداد جماعت کو ایک مقام پر حضرت مسیح علیہ السلام کی انتظاری میں کھڑے اور آسمان کی طرف تاکتے ہوئے دیکھا کہ گویا اب ہی حضرت مسیح نزول فرمائیں گے اور یہ بھی دیکھا کہ نزول مسیح کے لئے ایک مینار بنانے کے تردد میں لگ رہے ہیں اور اس وقت مجھے ایک الہامی کتاب میں لکھا ہوا دکھایا گیا کہ وہ مینار جس پر مسیح نازل ہوگا چراغ دین یعنی اس عاجز کے ہاتھ سے بنایا جائے گا اور ساتھ ہی اس کے یہ بھی مجھ پر ظاہر ہوا کہ گویا دنیا میں اس مینار کے بنانے کے لئے کوئی دوسرا شخص میرا ہم نام نہیں ہے اور پھر تقریبا عرصہ تین سال کے بعد رؤیا کی حالت میں تمام دنیا کی قومیں چڑیوں کی صورت پر آپس میں شور وغل کرتی ہوئی مجھے دکھائی گئیں اور جب میں ان کا نظارہ کر رہا تھا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام مجھ پر نازل ہوا ( ان کو کہو اس طرف چلی آویں تا کہ ان کو آرام ملے ) پھر اس کے بعد میں نے ایک دفعہ ایک رویا صالحہ میں دیکھا کہ صلحاء لوگوں کا ایک جلسہ منعقد ہوا اور اس عاجز کو اس میں شامل کیا گیا اور لوگ مجھے مبارکباد دیتے ہیں اور پھر ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ