حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد پنجم حصہ دوم) — Page 195
حیات احمد ۱۹۵ جلد پنجم حصہ دوم پاسداری کی پرواہ نہ کرے۔جب کہ اس کی کمزوری اور بیہودگی دلائل اور واقعات کی رو سے ثابت کر دی جاوے۔ہم دیکھیں گے کہ پیسہ اخبار آئندہ کے لئے اس اصول کی کہاں تک پروا کرتا ہے سر دست ہم اسے اسلامی ہمدردی کی رو سے سمجھاتے ہیں کہ وہ اپنے اس طرز کو بدل دے اور خدا تعالیٰ سے ڈر کر قلم اٹھایا کرے جب تک وہ حضرت مسیح موعود کی ساری تحریروں کو نہ پڑھ لے اُن پر نکتہ چینی کرنے کا اسے کوئی حق شرعاً، عرفاً ، اخلاقاً حاصل نہیں ہے اور یا تو وہ اس قسم کے مضامین جو محض دلا زاری کے لئے غلط بیانیوں کے سلسلہ میں شائع کئے جاتے ہیں شائع نہ کیا کرے یا وہ تحریر میں بھی ضرور شائع کرے جو ان کی تردید میں اس کو بھیجی جاویں۔فی الحال ہم اس پر اکتفا کرتے ہیں اور محض خیر خواہی کی بناء پر اسے یہ رائے دیتے ہیں ورنہ پیسہ اخبار کو یادر ہے کہ اس کی اس انانیت اور شیخنی کو توڑنے کے لئے ہم بفضلہ تعالیٰ ہر فرعونے را موسیٰ کی مثال عملی رنگ میں اسے سمجھا دیں گے۔کنمت و بشنود بهانه مگیر نصحتے کہ ہر چہ ناصح مشفق گویدت بپذیر چراغ دین جمونی کا انجام جیسا کہ میں نے اوپر اشارہ کیا ہے کہ بعض لوگ اس سلسلہ میں مرتد ہو کر الہام کا دعوی کر کے مقابلہ میں آئے اور ہلاک ہو گئے ان میں سے ایک شخص چراغ دین نام کا جموں کا باشندہ تھا وہ حضرت اقدس کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوا اور پھر شامت اعمال سے ارادت کے مقام سے گر گیا اور پھر تو بہ کی۔حضرت اقدس نے حقیقۃ الوحی میں اقسام وحی میں ایک تیسری قسم کا ذکر کیا ہے اور یہ تیسری قسم نظن سے آگے نہیں لے جاسکتی بلکہ اکثر شیطانی القا ہوتے ہیں۔فرمایا۔پہلی قسم وحی یا خواب کی محض علم الیقین تک پہنچاتی ہے۔۔یہ علم ایک عقل مند کو اس کے ظنون سے رہائی نہیں بخش سکتا اور اُس کو کوئی ترقی نہیں دے سکتا بلکہ صرف ایک خیال ہے جو اپنے ہی دماغ میں پیدا ہوتا ہے۔پس اس علم کی حد تک اُن کا ترجمہ۔میں ایک نصیحت کرتا ہوں۔سنو اور بہانہ نہ بناؤ جو کچھ مشفق ناصح تجھ سے کہے اس کو قبول کر۔